بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 جُمادى الأولى 1441ھ- 21 جنوری 2020 ء

دارالافتاء

 

دادا کا اپنی مملوکہ جائیداد کی ملکیت پوتوں کے نام منتقل کرنے کا حکم


سوال

اگر ایک آدمی اپنی ملکیت اپنی ہی حیاتی میں اپنے بیٹے کے کہنے پے اپنے پوتوں کے نام کرے اور سرکاری کاغذات میں داد کی حیاتی میں ہی پوتوں کی طرف ملکیت منتقل ہو چکی ہو، اب دادا کی وفات کے بعد کیا وہ ملکیت اسی حالت پے رہے گی یا ’’أنت و مالك لأبیك‘‘ کے فرمان کے موجب پھر وہ ملکیت باپ کی طرف منتقل ہوگی؟ یہ بات پھر  نوٹس میں لاتا ہوں کہ  دادا نے اپنے بیٹے کے کہنے پر پوتوں کو ملکیت لکھ کے دی ہے؟ 

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر مذکورہ شخص نے اپنی مملوکہ جائیداد اپنی زندگی میں ہبہ کی نیت سے پوتوں کے نام کردی تھی اور پوتوں کو اپنی مملوکہ جائیداد کا مکمل قبضہ اور تصرف کا حق بھی دے دیا تھا تو اب پوتے اس جائیداد کے مالک ہیں، اب یہ ملکیت ان پوتوں کے والد کی طرف منتقل نہیں ہوگی، البتہ اگر مذکورہ شخص نے وفات سے پہلےاپنی جائیداد اپنے پوتوں کو ہبہ کر کے مکمل قبضہ اور تصرف کے حق کے ساتھ حوالے نہیں کی تھی تو یہ ہبہ کامل نہیں ہوا تھا؛ اس لیے پوتے اس جائیداد کے مالک نہیں بنے تھے، لہٰذا مذکورہ شخص کے انتقال کے بعد اس کی جائیداد اس کا ترکہ شمار ہوگی اور اس کی وفات کے وقت موجود شرعی ورثہ کے درمیان میراث کے ضابطہ شرعی کے موافق تقسیم ہوگی۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144104200112

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے