بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 شوال 1441ھ- 27 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

داخلہ فیس کا حکم


سوال

داخلہ فیس کا حکم کیا ہے؟

جواب

محض داخلہ فیس لینے کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے، اس لیے کہ یہ کسی چیز کے عوض میں نہیں ہے، ہاں اگر  داخلہ کی کار روائی، امتحان، فارم اور عملہ کی خدمات کے عوض اس کام کی جتنی عموماً اجرت بنتی ہے اتنی ہی لے جائے تو اس کی گنجائش ہے۔

کفایت المفتی میں ہے:

’’داخلہ کی فیس تو کوئی معقول نہیں، ماہوار فیس لی جاسکتی ہے۔‘‘ (کتاب المعاش، ج:۷، ص:۳۱۳) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144107200790

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے