بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 21 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

دائمی بیماری کی وجہ سے روزے نہ رکھنے والے کا حکم


سوال

میری بیٹی کو ''تھیلیسمیا'' خون کی بیماری ہے، جس کی وجہ سے روزہ نہیں رکھ سکتی ہے ۔ اور ہم صاحبِ حیثیت بھی نہیں ہے کہ فدیہ ادا کریں، تو ہمارےلیے شرعی حکم کیا ہے؟ اور فدیہ میں کتنے مسکین کو کھاناکھلانا ہوگا؟

جواب

آپ کی بیٹی اگر بیماری کی وجہ سے روزہ رکھنے پر قادر نہیں ہے تو فی الحال وہ روزہ نہ رکھے، لیکن جتنے روزے چھوٹ رہے ہیں ان کی گنتی رہے، بعد میں  اللہ تعالیٰ نے شفا دے دی تو ان روزوں کی قضا کرلے،  لیکن اگر ان روزوں کی قضا نہ کرسکی تو پھر آپ کی بیٹی پر وصیت کرنا لازم ہوگا کہ میرے مرنے کے بعد میرے ترکہ میں سے میرے فوت شدہ روزوں کا فدیہ ادا کردیا جائے، اگر اس نے فدیہ ادا کرنے کی وصیت کی ہو اور ترکہ بھی چھوڑا ہو تو اس وقت موجود ورثاءپر لازم ہوگا کہ اس کے ایک تہائی ترکہ  میں سے فی روزہ ایک فدیہ ادا کریں ، لیکن ایک تہائی سے زائد سے فدیہ ادا کرنا واجب نہیں ہوگا، اسی طرح اگر اس نے ترکہ ہی نہ چھوڑا ہو یا وصیت ہی نہ کی ہو تو ورثاءپر فدیہ ادا کرنا لازم  نہیں ہوگا ،البتہ ورثاء کے ادا کرنے سے ادا ہوجائے گا اور میت پر بڑا احسان ہوگا ۔

ایک روزے کا فدیہ ایک صدقہ فطر کے برابر ہے ، اور ایک صدقہ فطر تقریباً پونے دو کلو گندم یا آٹا یا اس کی قیمت ہے، اس وقت اس کی قیمت معلوم کرلی جائے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 423)

'' (فإن ماتوا فيه) أي في ذلك العذر (فلا تجب) عليهم (الوصية بالفدية) لعدم إدراكهم عدة من أيام أخر (ولو ماتوا بعد زوال العذر وجبت) الوصية بقدر إدراكهم عدة من أيام أخر، وأما من أفطر عمداً فوجوبها عليه بالأولى، (وفدى) لزوماً (عنه) أي عن الميت (وليه) الذي يتصرف في ماله (كالفطرة) قدرا (بعد قدرته عليه) أي على قضاء الصوم (وفوته) أي فوت القضاء بالموت، فلو فاته عشرة أيام فقدر على خمسة فداها، فقط (بوصيته من الثلث) متعلق بفدى، وهذا لو له وارث، وإلا فمن الكل، قهستاني (وإن) لم يوص  و (تبرع وليه به جاز) إن شاء الله، ويكون الثواب للولي، اختيار۔

 (قوله: فإن ماتوا إلخ) ظاهر في رجوعه إلى جميع ما تقدم حتى الحامل والمرضع ، وقضية صنيع غيره من المتون اختصاص هذا الحكم بالمريض والمسافر. وقال في البحر: ولم أر من صرح بأن الحامل والمرضع كذلك، لكن يتناولهما عموم قوله في البدائع من شرائط القضاء القدرة على القضاء، فعلى هذا إذا زال الخوف أياماً لزمهما بقدره، بل ولا خصوصية فإن كل من أفطر بعذر ومات قبل زواله لا يلزمه شيء، فيدخل المكره والأقسام الثمانية. اهـ.ملخصاً من الرحمتي (قوله: أي في ذلك العذر) على تقدير مضاف أي في مدته (قوله: لعدم إدراكهم إلخ) أي فلم يلزمهم القضاء، ووجوب الوصية فرع لزوم القضاء وإنما تجب الوصية إذا كان له مال في شرح الملتقى، ط (قوله: بقدر إدراكهم إلخ) ينبغي أن يستثنى الأيام المنهية؛ لما سيأتي أن أداء الواجب لم يجز فيها، قهستاني. وقديقال: لا حاجة إلى الاستثناء؛ لأنه ليس بقادر فيها على القضاء شرعاً بل هو أعجز فيها من أيام السفر والمرض؛ لأنه لو صام فيها أجزأه، ولو صام في الأيام المنهية لم يجزه، رحمتي''۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909200703

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے