بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 جمادى الاخرى 1441ھ- 20 فروری 2020 ء

دارالافتاء

 

خون کی کتنی مقدار کے نکلنے سے وضو ٹوٹ جا تا ہے؟


سوال

خون کی کتنی مقدار کے نکلنے سے وضو ٹوٹ جا تا ہے؟

جواب

جسم کے کسی حصے سے خون نکل کر اپنی جگہ سے بہہ جائے تو اس سے وضوٹوٹ جائے گا۔ اگر  جسم کے کسی حصہ سے خون نکلااور اسے پونچھ دیاگیااوراس پونچھے گئے خون کی مقداراتنی تھی کہ چھوڑدینے کی صورت میں وہ اپنی جگہ سے بہہ جاتا توبھی وضوٹوٹ جائے گا۔ اور اگرپونچھے  گئے خون کی مقداراتنی کم تھی کہ اگرنہ پونچھا جاتا تو بھی نہ بہتا، بلکہ اپنی جگہ پر ہی رہتا تو وضونہیں ٹوٹے گا۔

پھوڑا پھنسی وغیرہ سے جومعمولی خون کادھبہ اوپرآجاتاہے اور بہتانہیں، اس سے وضونہیں ٹوٹے گا، البتہ اگر بہہ جائے یااسے صاف کرلیاجائے اور وہ بہنے کی مقدارکے برابرہوتووضوٹوٹ جائے گا۔ نیز شوگر وغیرہ ٹیسٹ کرنے کے لیے سوئی سے جو خون نکالا جاتاہے، اس سے وضو ٹوٹ جاتاہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144104200834

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے