بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 صفر 1442ھ- 22 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

خواتین کا گھر میں مسجد کے امام کی اقتدا میں تراویح پڑھنا


سوال

مسجد کے برابر میں گھر ہے درمیان میں بس ایک گلی کا فیصلہ ہے اگر لاؤڈ اسپیکر کا انتظام کرلیں، گھر میں تراویح کی آواز مسجد سے آ ئے،تو کیا گھر میں خواتین کی تراویح ادا ہو جائے گی؟

جواب

 اقتدا درست ہونے  کے لیے  امام اور مقتدی کے مکان کا متحد ہونا شرط ہے خواہ حقیقتاً متحد ہوں یا حکماً، حقیقتاً  جگہ متحد ہونے کی مثال یہ ہے کہ امام اور مقتدی دونوں ایک ہی مسجد یا ایک ہی گھر میں کھڑے ہوں، اور حکماً  جگہ متحد ہونے کی مثال یہ ہے کہ امام اور مقتدی اگرچہ دو الگ الگ جگہوں میں کھڑے ہوں ،لیکن درمیان  میں صفیں متصل ہوں، لہذا صورتِ  مسئولہ میں امام اور گھر میں پڑھنی والی خواتین  چوں کہ دونوں الگ الگ مکان میں ہیں، اس لیے  مذکورہ امام کے پیچھے گھر میں پڑھنے والی خواتین کی تراویح کی  نماز درست نہیں ہوگی۔

''فتاوی عالمگیر ی'' میں ہے:

''ويجوز اقتداء جار المسجد بإمام المسجد وهو في بيته إذا لم يكن بينه وبين المسجد طريق عام وإن كان طريق عام ولكن سدته الصفوف جاز الاقتداء لمن في بيته بإمام المسجد''. (1 / 88،  الباب الخامس فی بیان مقام الامام والماموم،ط: رشیدیہ) 

''فتاوی شامی'' میں ہے:

''والصغرى ربط صلاة المؤتم بالإمام بشروط عشرة: نية المؤتم الاقتداء، واتحاد مكانهما وصلاتهما،

(قوله: واتحاد مكانهما) فلو اقتدى راجل براكب أو بالعكس أو راكب براكب دابة أخرى لم يصح لاختلاف المكان؛ فلو كانا على دابة واحدة صح لاتحاده كما في الإمداد، وسيأتي''۔(1 / 549، 550، باب الامامۃ، ط؛ سعید)  فقط  واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143908200281

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں