بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 شوال 1441ھ- 05 جون 2020 ء

دارالافتاء

 

خواب اور اس کی تعبیر کے احکام


سوال

مجھے مختلف قسم کے خواب آتے ہیں، کچھ برے کچھ اچھے، اور کچھ تو یاد بھی نہیں رہتے، ہر خواب کے بارے میں الگ الگ سے سوال کر کے آپ کا قیمتی وقت ضائع کرنا صحیح نہیں ہے، مجھے آپ کوئی ایسی مستند کتاب جِس میں خوابوں کی تعبیر ہو بتا دیں؛  تا کہ میں خود ہی پڑھ کر تعبیر جان سکوں!

جواب

اچھا خواب نظر آئے تو کسی سمجھ دار اور تعبیر کے فن میں مہارت رکھنے والے سے اس کا ذکر کیا جائے؛  کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ خواب پرندے کے پاؤں پر ہوتا ہے  جب تک اس (خواب یا اس کی تعبیر ) کو  بیان نہ کیا جائے، جب  خواب دیکھنے والا (یا کوئی مؤمن ) اس (خواب یا اس کی تعبیر) کو بیان کردے تو خواب واقع ہوجاتا ہے۔  راوی کا کہنا ہے کہ میری دانست میں آپ ﷺ نے یوں بھی فرمایا: خواب کسی عاقل و سمجھ دار  یا محبت رکھنے والے کے سامنے ہی بیان  کرو‘‘۔(ترمذی)

اور اگر کوئی شخص برا یا ڈراؤنا خواب دیکھے تو جیسے ہی آنکھ کھلے بائیں طرف تھتکار کر "أَعُوْذُ بِاللهِ مِنْ شَرِّ هذِهِ الرُّؤْیَا" پڑھ لینا چاہیے، اور یہ خواب کسی سے بیان نہیں کرنا چاہیے، یہ شیطان کی طرف سے شرارت ہوتی ہے، جس کا مقصد انسان کو پریشان کرنا ہوتاہے ۔ (مسلم)

تعبیر کی کتاب سے اپنے خواب کی تعبیر تلاش کرنا درست نہیں ہے، اس لیے کہ خواب کی تعبیر میں خواب دیکھنے والے کی شخصیت،  مزاج  ،احوال اور موسم  نیز دیگر بہت سے امور کا دخل ہوتا ہے، لہذا محض کتاب دیکھنے سے خواب کی صحیح تعبیر معلوم نہیں کی جا سکتی، جیسا کہ محض کتاب دیکھ کر کوئی مریض اپنے مرض کے لیے دوا  متعین نہیں کرتا، کسی ماہر ڈاکٹر سے رجوع کرتا ہے، اسی طرح خواب کی تعبیر کے لیے کسی ماہر معبر سے رجوع کرنا چاہیے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144104200864

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں