بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 ربیع الاول 1442ھ- 20 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

خنزیر کے اجزاء والی دوا کا حکم


سوال

میری بیٹی 12 سال کی ہے، پچھلے ایک سال سے وہ بیمار ہے، پچھلے دو ماہ سے بہت زیادہ بیماری ہے، کچھ کھا پی نہیں سکتی، اب جا کر پتا چلا ہے کہ لبلبہ ٹھیک کام نہیں کر رہا، ڈاکٹر نے جو دوائی لکھی ہے، میں نے انٹرنیٹ پر دیکھا تو اس کے اجزاء میں خنزیر کے اجزاء شامل ہیں، میرا ایمان اجازت نہیں دے رہا کہ میں اپنی بیٹی کو یہ دوائی دوں، اگر اسلام میں اجازت ہے تو میری رہنمائی فرمائیں!

جواب

واضح رہے کہ کسی بھی حرام چیز کو بطورِ دوا استعمال کرنا بھی حرام ہے، الا یہ کہ بیماری مہلک یا ناقابلِ برداشت ہو اور مسلمان  ماہر دین دار طبیب یہ کہہ دے کہ   اس بیماری کا علاج کسی بھی حلال چیز سے ممکن نہیں ہے اور یہ یقین ہو جائے کہ  شفا حرام چیز میں ہی منحصر ہے، اور کوئی متبادل موجود نہیں ہےتو مجبوراً بطورِ دوا و علاج بقدرِ ضرورت حرام اشیاء کے استعمال کی گنجائش ہوتی ہے ورنہ نہیں۔

لہذا اگر آپ کی بیٹی کے لیے کوئی متبادل حلال دوا موجود ہے تو اس حرام اجزاء پر مشتمل دوائی سے پرہیز کرنا ضروری ہے، اور اگر کوئی حلال دوا موجود نہیں تو پھر اس دوا کے استعمال کرنے کی گنجائش ہوگی۔

در المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 210):

اختلف في التداوي بالمحرم، وظاهر المذهب المنع كما في رضاع البحر، لكن نقل المصنف ثمة وهنا عن الحاوي: وقيل: يرخص إذا علم فيه الشفاء ولم يعلم دواء آخر كما رخص الخمر للعطشان، وعليه الفتوى.

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144110200078

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں