بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ذو الحجة 1441ھ- 07 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

خلوت کے بعد طلاق کی صورت میں مہر کاحکم


سوال

’’الف‘‘  کا نکاح ’’ف‘‘  سے عوض حقِ مہر "ساڑھے چار تولے سونے کے طلائی زیورات غیر معجل عندالطلب" طے ہو جو کہ نکاح نامہ پہ تحریر کیا گیا تھا۔ رخصتی کے بعد آٹھویں دن دونوں کے مابین بذریعہ طلاقِ ثلاثہ علیحدگی عمل میں آئی؛ کیوں کہ ’’الف‘‘  بو جہ مردانہ کم زوری حقوقِ زوجیت کی ادائیگی کے قابل نہ تھا۔ البتہ ان آٹھ دنوں میں ایک مرتبہ ایسی صورت پیش آئی کہ ہم بستری کی کوشش میں دونوں پہ غسل فرض ہوگیا۔ اب ’’الف‘‘  حقِ مہر ادا کرنے سے انکاری ہے۔

1۔ کیا ’’الف‘‘ متذکرہ ’’ف‘‘  کو حقِ مہر ادا کرنے کا شرعی طور پہ پابند ہے یا نہیں؟

2۔ اگر ’’الف‘‘  حقِ مہر ادا کرنے کا شرعی طور پہ پابند ہے تو انکار کی صورت میں اس کے  لیے شرعی طور پہ کیا حکم ہے؟

 3۔ حقِ  مہر کی ادائیگی کی صورت میں آیا ساڑھے چار تولہ سونا کی قیمت ادا کی جاسکتی ہے یا طلائی زیورات جس میں زیورات کی بنوائی کی اجرت بھی ادا کرنا لازم ہوگی ؟

جواب

1- صورتِ  مسؤلہ میں ’’الف‘‘  پر طے شدہ حقِ مہر کی ادائیگی لازم ہے۔

2- یہ حقِ مہر  ’’الف‘‘  پرقرض ہے جس کی ادائیگی اس پر لازم ہے، ادا نہ کرنے کی صورت میں گناہ گار ہوگا، اگر بغیر ادا کیے انتقال ہوگیا تو اس کے مال سے  پہلے یہ مہر کی رقم ادا کی جائے گی، اس کے بعد باقی بچ جانے ولامال ورثاء میں تقسیم ہوگا، اگر مال نہ ہوا تو یہ مہر ذمہ پر رہ جائے گا جس کی آخرت میں پوچھ ہوگی اور پھر وہاں نیکیوں کی صورت میں ادا کرنا ہوگا.

 3- اگر نکاح کے وقت طلائی زیورات دینا طے ہوا تھا تو ا ب اتنے طلائی زیورات ادا کرے یا اس کی قیمت ادا کرے ، اگر عورت زیورات کی جگہ سونے کی قیمت یا کسی بھی بدل پر راضی ہو جائےتو سونے کی قیمت یا وہ بدل بھی  دے سکتے ہیں۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

’’والمهر یتأکد بأحد معان ثلاثة: الدخول، والخلوة الصحیحة، وموت أحد الزوجین سواء کان مسمی أو مهر المثل حتی لایسقط منة شيء بعد ذلك إلا بالإبراء من صاحب الحق ، کذا في البدائع". (302/1)  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144102200139

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں