بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 25 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

خلع یافتہ خاتون کی عدت کیا ہے؟


سوال

خلع کی عدت تین حیض کیوں؟ جب کہ سنن ابوداؤد حدیث نمبر ۲۲۲۹ اور ۲۲۳۰ میں ایک حیض مقرر کی گئی۔ برائے کرم راہ نمائی فرمائیں!

جواب

واضح رہے کہ جمہور صحابہ کرام، تابعین و ائمہ مجتہدین کے نزدیک خلع طلاق ہی کی قبیل سے ہے،  لہٰذا میاں بیوی کے درمیان خلع سے جو فرقت واقع ہوتی ہے، وہ طلاق ہی ہے،  جیسا کہ مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے:

"18429 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ قَالَ: نا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جُمْهَانَ، «أَنَّ امْرَأَةً اخْتَلَعَتْ مِنْ زَوْجِهَا بِخُلْعِهَا فَجَعَلَهُ عُثْمَانُ تَطْلِيقَةً وَمَا سَمَّى»".

ترجمہ: حضرت جمہان سے مروی ہے کہ : ایک خاتون نے اپنے شوہر سے خلع لی، تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اسے طلاق قرار دیا۔

"18433 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ قَالَ: نا وَكِيعٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي عَاصِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَعَلَ الْخُلْعَ تَطْلِيقَةً»".

ترجمہ: حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خلع کو طلاق قرار دیا ہے۔

"18434 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ قَالَ: نا وَكِيعٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُبَارَكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ: «الْخُلْعُ تَطْلِيقَةٌ بَائِنَةٌ»".

یحی بن ابی سلمہ فرماتے ہیں کہ خلع ایک طلاق بائن ہے۔

"18435 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ قَالَ: نا وَكِيعٌ، وَابْنُ عُيَيْنَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ طَلْحَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: «لَاتَكُونُ تَطْلِيقَةً بَائِنَةً إِلَّا فِي فِدْيَةٍ، أَوْ إِيلَاءٍ» إِلَّا أَنَّ عَلِيَّ بْنَ هَاشِمٍ قَالَ: عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ".

ترجمہ: عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ طلاقِ بائن تو خلع اور ایلاء ہے۔

"18436 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ قَالَ: نا شَرِيكٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، وَجَابِرٌ، عَنْ عَامِرٍ، وَعَطَاءٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَا: «الْخُلْعُ تَطْلِيقَةٌ بَائِنَةٌ»".

ترجمہ: عطاء و  سعید بن جبیر رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ : خلع طلاق بائن ہے۔

"18437 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ قَالَ: نا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: «الْخُلْعُ تَطْلِيقَةٌ بَائِنَةٌ وَالْإِيلَاءُ، وَالْمُبَارَأَةُ كَذَلِكَ»".

ابراہیم نخعی تابعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ : خلع طلاق بائن ہے، اسی طرح ایلاء مبارات بھی طلاق بائن ہیں۔

"18438 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ قَالَ: نا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ عَبَّادٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَيُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، فِي الرَّجُلِ يَخْلَعُ امْرَأَتَهُ قَالَا: «أَخْذُهُ الْمَالَ تَطْلِيقَةٌ بَائِنَةٌ»".

ترجمہ: حضرت  حسن نے اس شخص کے بارے میں فرمایا جس کی بیوی نے خلع لی ہو، مال لینا طلاقِ بائن ہے۔

"18439 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ قَالَ: نا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ مُوسَى بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ: «إِذَا خَلَعَ الرَّجُلُ أَمْرَ امْرَأَتِهِ مِنْ عُنُقِهِ فَهِيَ وَاحِدَةٌ، وَإِنِ اخْتَارَتْهُ»

18440 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ قَالَ: نا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ يَحْيَى قَالَ: قَالَ قَبِيصَةُ بْنُ ذُؤَيْبٍ: «الْخُلْعُ تَطْلِيقَةٌ، إِنْ شَاءَتْ تَزَوَّجَتْهُ بِصَدَاقٍ جَدِيدٍ»".

ترجمہ: قبیصہ بن ذؤیب فرماتے ہیں کہ: خلع طلاق ( بائن) ہے، اگر عورت چاہے، تو نئے مہر کے ساتھ سابق شوہر سے شادی کر سکتی ہے۔

"18441 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ قَالَ: نا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: «كُلُّ خُلْعٍ أُخِذَ عَلَيْهِ فِدَاءٌ فَهُوَ طَلَاقٌ، وَهُوَ تَطْلِيقَةٌ بَائِنَةٌ»".

ترجمہ: شعبی فرماتے ہیں کہ : ہر خلع جس پر عوض حاصل کیا گیا ہو، تو وہ طلاق ،  طلاقِ بائن ہے۔

"18442 - حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ شُرَيْحٍ قَالَ: «كُلُّ خُلْعٍ تَطْلِيقَةٌ بَائِنَةٌ»".

ترجمہ: شریح فرماتے ہیں کہ:  ہر خلع طلاق بائن ہے۔

"18443 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ قَالَ: نا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: «الْخُلْعُ تَطْلِيقَةٌ بَائِنَةٌ»". (مصنف ابن أبي شیبة، مَا قَالُوا: فِي الرَّجُلِ إِذَا خَلَعَ امْرَأَتَهُ، كَمْ يَكُونُ مِنَ الطَّلَاقِ؟، 4 / 117 - 118)

ترجمہ: عطاء فرماتے ہیں کہ خلع طلاق بائن ہے۔

پس جب خلع طلاقِ بائن ہے، تو جس طرح عام طلاق کی عدت تین ماہواریاں ہیں،  (بشرطیکہ خاتون کو ماہ واری آتی ہو)  خلع کی عدت بھی جمہور کے نزدیک تین ماہواریاں ہی ہیں، اور حیض نہ آنے کی صورت میں اس کی عدت تین ماہ ہے، جیسے عام طلاق کی عدت ہوتی ہے،  اور خاتون کے حاملہ ہونے کی صورت میں اس کی عدت وضعِ حمل ہوگی، جیسے عام طلاق میں ہوتی ہے۔

موطأ مالكمیں ہے:

"33 - حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ رُبَيِّعَ بِنْتَ مُعَوَّذِ بْنِ عَفْرَاءَ جَاءَتْ هِيَ وَعَمُّهَا إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَأَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا «اخْتَلَعَتْ مِنْ زَوْجِهَا فِي زَمَانِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ فَلَمْ يُنْكِرْهُ، وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ:» عِدَّتُهَا عِدَّةُ الْمُطَلَّقَةِ".

ترجمہ: ربیع بنتِ معوذ بن عفراء اپنے چچا کے ساتھ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی عنہما کی خدمت میں دریافت کرنے تشریف لائیں کہ انہوں نے اپنے شوہر سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانے میں  خلع لی ہے، حضرت عثمان کو اس بات کی خبر ہوئی، تو انہوں نے انکار نہیں کیا، اور عبداللہ بن عمر  رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ اس کی عدت طلاق کی عدت ہے۔

"وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، وَسُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ وَابْنَ شِهَابٍ كَانُوا يَقُولُونَ: «عِدَّةُ الْمُخْتَلِعَةِ مِثْلُ عِدَّةِ الْمُطَلَّقَةِ ثَلَاثَةُ قُرُوءٍ»". ( موطأ مالك، ت: عبد الباقي، بَابُ طَلَاقِ الْمُخْتَلِعَةِ، ٢ / ٥٦٥، رقم: ٣٣)

امام مالک فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن مسیب، سلیمان بن یسار، اور ابن شہاب فرمایا کرتے تھے کہ خلع یافتہ خاتون کی عدت عام مطلقہ خاتون کی عدت کی طرح تین حیض عدت ہے۔

ذیل میں مزید کچھ آثار نقل کیے جاتے ہیں، جس سے خلع یافتہ خاتون اور عام طلاق یافتہ خاتون کی عدت یک ساں ہونا ثابت ہوتا ہے:

مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے:

"18452 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ قَالَ: نا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَعَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَا: «عِدَّةُ الْمُخْتَلِعَةِ، عِدَّةُ الْمُطَلَّقَةِ».

18453 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ قَالَ: كَانَ أَبِي يَقُولُ: «تَعْتَدُّ ثَلَاثَ حِيَضٍ، وَهُوَ أَوْلَى بِخِطْبَتِهَا فِي الْعِدَّةِ».

18454 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ قَالَ: نا جَرِيرٌ، وَهُشَيْمٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: «كُلُّ فُرْقَةٍ كَانَتْ بَيْنَ الرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ، فَعِدَّتُهَا عِدَّةُ الْمُطَلَّقَةِ».

18456 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ قَالَ: نا وَكِيعٌ، وَهِشَامٌ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: «عِدَّتُهَا ثَلَاثَةُ قُرُوءٍ».

18457 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ قَالَ: نا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: «عِدَّةُ الْمُخْتَلِعَةِ، عِدَّةُ الْمُطَلَّقَةِ».

18458 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ قَالَ: نا ابْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدٍ، وَأَبِي عِيَاضٍ، وَخِلَاسٍ قَالُوا: «عِدَّةُ الْمُخْتَلِعَةِ، عِدَّةُ الْمُطَلَّقَةِ».

18459 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ قَالَ: نا شَبَابَةُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، وَغَيْرِهِمَا أَنَّهُمْ كَانُوا يَقُولُونَ: «عِدَّةُ الْمُخْتَلِعَةِ، عِدَّةُ الْمُطَلَّقَةِ ثَلَاثَةُ قُرُوءٍ»".( مَا قَالُوا: فِي عِدَّةِ الْمُخْتَلِعَةِ كَيْفَ هِيَ؟ 4 / 119)

رہی بات سنن ابی داؤد کی درج ذیل روایت کی:

"عن ابن عباس رضي الله عنه أن امرأة ثابت بن قيس اختلعت منه فجعل النبي صلى الله عليه وسلم عدتها حيضةً". (رقم: ٢٢٢٩، ٢ / ٦٦٩ - ٦٧٠، ت: عزت عبيد دعاس)

تو اس کے بارے میں  محدثین و فقہاء فرماتے ہیں کہ: ( عدتها حيضةً) کا مطلب ایک حیض نہیں، بلکہ جنس مراد ہے یعنی اسے عام طلاق یافتہ خواتین کی طرح حیض شمار کرکے عدت گزارنی ہوگی۔ بالفرض اگر مذکورہ روایت سے ایک حیض ہی عدت تسلیم کی جائے تو  اس صورت میں مذکورہ روایت  چوں کہ قرآنِ مجید میں بیان کردہ مطلقہ کی عدت کے اَحکام کے خلاف ہے  اس کی وجہ سے مذکورہ خبر واحد پر عمل ترک کرکے قرآنی حکم پر عمل کیا جائے گا۔

فقہاءِ کرام نےخبر واحد پر عمل کے لیے ضابطہ مقرر کیا ہے کہ وہ کتاب اللہ کے حکم کے معارض نہ ہو، کیوں کہ خبر واحد کے ذریعہ  کتاب اللہ کے حکم کو ترک کرنا، یا اس میں تبدیلی کرنا جائز نہیں۔

بذل المجهود في شرح سنن أبي داؤدمیں ہے:

"(اختلعت منه فجعل النبي صلى الله عليه وسلم عدتها حيضةً) واختلف في الخلع أنه فسخ أو طلاق؟ فقال أبو حنيفة وأصحابه وابن أبي ليلى، و أحد قولي الشافعي: إنه الطلاق البائن، وحكي ذلك عن علي وعمر وعثمان، وقال أحمد بن حنبل وطاووس وأسحاق وأبو ثور وابن المنذر وهو أحد قولي الشافعي: إنه فسخ لا طلاق، حكي ذلك عن ابن عباس وعكرمة. واستدلوا بهذا الحديث بأنه لو كان طلاقًا لكان العدة ثلاثة قروء، فالتربص بحيضة يشعر بأنه فسخ، فيكفى فيه الحيضة الواحدة. وأجاب عنه بعض العلماء أن المراد بالحيضة هو الجنس الذي يصدق على القليل والكثير، فالمراد أن العدة بالحيض لا بالأشهرو فلايدل على وحدة الحيضةو وتعقب بأنه وقع في النسائي التصريح بالوحدة، ويجاب عنه بأن زيادة الواحدة في النسائي مبني على فهم الراوي بأنه فهم من لفظ الحيضة حيضةً واحدةً، فرواها كما فهم.

قال في فتح الودود: من لايقول به، يقول: إن الواجب في العدة ثلاثة قروء، بالنص، فلايترك النص بخبر الأحاد". ( بذل المجهود فى حل أبى داود، كتاب الطلاق، ١٠ / ٢١٨ - ٢١٩، ط: دار الكتب العلمية بيروت)

الفصول في الأصول للجصاص میں ہے:

"(وَعُمُومُ الْقُرْآنِ يُوجِبُ الْعِلْمَ بِجَمِيعِ مَا تَحْتَهُ فَإِنَّهُ لَايَجُوزُ تَرْكُهُ) بِمَا لَايُوجِبُ الْعِلْمَ، وَخَبَرُ الْوَاحِدِ لَايُوجِبُ الْعِلْمَ بِمَخْبَرِهِ، وَإِنَّمَا قَبِلُوهُ مِنْ جِهَةِ الِاجْتِهَادِ وَحُسْنِ الظَّنِّ بِالرَّاوِي، فَلَايَجُوزُ الِاعْتِرَاضُ بِهِ عَلَى ظَاهِرِ الْقُرْآنِ وَالسُّنَنِ الثَّابِتَةِ مِنْ طَرِيقٍ يُوجِبُ الْعِلْمَ. وَلِهَذِهِ الْعِلَّةِ بِعَيْنِهَا لَمْ يَجُزْ نَسْخُ الْقُرْآنِ بِخَبَرِ الْوَاحِدِ؛ لِأَنَّهُ غَيْرُ جَائِزٍ رَفْعُ مَا يُوجِبُ الْعِلْمَ بِمَا لَايُوجِبُهُ". ( بَاب تَخْصِيصِ الْعُمُومِ بِخَبَرِ الْوَاحِدِ، ١ / ١٦٢ - ١٦٣)  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144106200198

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے