بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 ربیع الاول 1442ھ- 29 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

ختمِ جلالی


سوال

ہمارے  یہاں ’’ختم جلالی‘‘  کے  نام سے ایک معمول جاری ہے،  جس کا طریقہ یہ ہے کہ زعفران کی سیاہی سے کاغذ پر سوا لاکھ مرتبہ لفظ اللہ لکھاجاتاہے،  اس کے بعد ہر ایک لفظ کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے آٹے کی گولی بناکر (بناتے وقت سب مل کر دعاءِ یونس پڑھتے ہیں) اس کو  دھوپ میں سوکھا کر سمندر میں مچھلی کی خوراک کی حیثیت سے ڈالا جاتا ہے۔ بہت سے لوگ مصائب سے نجات پانے کے لیے عمل کرکے دعا کراتے ہیں۔ اس عمل کی شرعی حیثیت کیا ہیں؟ دلائل سے وضاحت  کیجیے؟ 

جواب

ختمِ مذکور کسی نص سے ثابت نہیں ہے، کسی پیر یا عامل کا جاری کردہ ہو گا، اس عمل میں لفظِ ’’الله‘‘  لکھ  کر مچھلی کی خوراک کے طور پر اسے ڈالنا پایا جاتاہے، جس میں اللہ تعالیٰ کے نامِ گرامی کی بے ادبی معلوم ہوتی ہے، اس لیے یہ عمل قابلِ ترک ہے۔

اگر  کوئی شخص کسی مصیبت میں مبتلا ہو جائے تو  مطلقاً صدقہ یا محض آیتِ کریمہ یا حَسْبِيَ الله وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ نِعْمَ الْمَوْلی وَ نِعْمَ النَّصِیْرپڑھنا بھی مفید ثابت ہو گا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144106200297

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں