بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

28 جمادى الاخرى 1441ھ- 23 فروری 2020 ء

دارالافتاء

 

خاص اسکیم کے تحت موٹر سائیکل کی خرید و فروخت


سوال

ایک دوکان دار کسی کمپنی کی نئی موٹر سائیکل میں قرعہ اندازی اس طرح کرتا ہے کہ ایک قرعہ اںدازی میں کم سے کم 300 ممبر شریک ہوں اور ہر ممبر ہر مہینے 1300 روپے جمع کرائے گا، اور ہر مہینے کی کسی مقررہ تاریخ میں قرعہ اندازی ہوگی اور جس کا نام قرعہ اندازی میں نکلے اس کو موٹر سائیکل دی جائے گی اور جس کو موٹر سائیکل ملے گی وہ آگے پیسے جمع نہیں کرائے گا اور جس کا نام نکلتا جائے گا وہ آگے پیسے جمع نہیں کرائے گا، اس طرح یہ سلسلہ 36 ماہ تک چلے گا اور 36 ماہ میں 36 موٹر سائیکل نکل جائیں گی، اس کے بعد باقی رہنے والے ممبروں کو ایک ایک موٹر سائیکل دے  دی جائے گی۔کوئی ممبر موٹر سائیکل سے خالی نہیں رہے گا۔

ایسا کاروبار کرنا کیسا ہے؟ اورایسی قرعہ اندازی میں شامل ہونا شرعاً  کیسا ہے؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں مذکورہ اسکیم کے تحت موٹر سائیکل بیچنا اور خریدنا، جائز نہیں ہے۔

تفصیل کے لیے درج ذیل لنک ملاحظہ فرمائیں :

قرعہ اندازی کے ذریعہ موٹر سائیکل حاصل کرنے کی ایک اسکیم


فتوی نمبر : 144104200624

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے