بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

حیلہ اسقاط کا حکم


سوال

  کچھ لوگ میت کے دفن ہونے سے قبل کچھ پیسے تقسیم کرتے ہیں جس کو ''سخات'' کہتے ہیں. اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ ایک بندہ آواز کرتا ہے کہ غرباء یہاں گول دائرہ بنائیں. جب دائرہ بن جاتا ہے  تب وہاں پر ایک ٹوکری میں کچھ پیسے اور تھوڑا بہت گندم یا جو وغیرہ رکھ کر اس دائرے میں بیٹھا ہر شخص اس پر ہاتھ رکھ کر قبول کرنے کے بعد دوسرے بیٹھے شخص کو فارورڈ یعنی بھیج دیتا ہے اور وہ بھی اس ٹوکری کو قبول کر کے آگے دوسرے کی طرف دھکیلتا ہے ، یہ سلسلہ دو تین مرتبہ اسی دائرے کے لوگوں میں چلتا ہےـ اور اس کے بعد اس ٹوکری میں جو کچھ ہو اس کو اسی دائرے میں بیٹھے اشخاص میں بھی تقسیم کر دیتا ہے اور دوسرے غرباء جو اس دائرے میں بیٹھنے سے رہ گئے ہوں، کو بھی وہی پیسے جسے وہ لوگ ''سخات'' کہتے ہیں تقسیم کیا جاتا ہے. یہ لوگ اس طریقے کو اس لیے کرتے ہیں کہ یہ جو شخص مر گیا ہے یہ غریب تھا اور اس پر اللہ تعالی کے احکامات کا قرضہ تھا. جو ادا نہ ہونے کے برابر تھا.

جواب

سب سے پہلے  تو یہ بات واضح ہونی چاہیے ک یہ عمل جس کو  “ حیلۂ اسقاط‘‘ بھی کہتے ہیں بعض فقہاء نے ایسے شخص کے لیے تجویز فرمایا تھا جس کی کچھ نماز یں اور روزے وغیرہ اتفاقی طور پر فوت ہوگئے ہوں، پھر قضا کرنے کا موقع نہ ملا اور موت کے وقت فدیہ کی وصیت تو  کی ہو ، لیکن مرحوم نے اتنا ترکہ نہ چھوڑا جس کے ایک تہائی سے ان کے تمام فوت شدہ نمازوں اور روزوں کا فدیہ ادا کیا جاسکے۔ ایسی صورت میں اگر ورثاء  اصحاب استطاعت ہوں تو  اپنے مال سے مرحوم کی نمازوں اور روزوں کا فدیہ ادا کردیں، اور اگر ورثاء  کے پاس بھی گنجائش نہ ہو تو فقہا ء نے حیلے کی گنجائش ذکر کی ہے، اور اس کی جائز صورت یہ ہے کہ:  ورثاء  فدیہ کی نیت سے کچھ رقم کسی غریب و نادار مستحق زکاۃ کو دے کر اس کو اس رقم کا اس طرح مالک بنادیں کہ اگر وہ مستحق رقم واپس کرنے کے بجائے خود استعمال کرلے تو ورثاء کو کوئی اعتراض نہ ہو  اور وہ مستحق شخص یہ سمجھتا ہو کہ اگر میں یہ رقم مرحوم کے ورثاء  کو واپس نہ کروں تو انہیں واپس لینے کا اختیار نہیں ہے، پھر وہ مستحق کسی قسم کے جبر  اور دباؤ کے بغیر اپنی خوشی سے وہ رقم ورثاء  کو واپس کردے اور پھر ورثاء  اسی مستحق کو یا کسی اور مستحق کو اسی طرح مذکورہ طریقے کے مطابق وہ رقم دے دیں اور وہ بھی اپنی خوش دلی سے  انہیں واپس کردے، اس طرح باربار  ورثاء  یہ رقم کسی مستحق کو  دیتے رہیں اور وہ اپنی خوشی و مرضی سے واپس کرتا رہے، یہاں تک کہ مرحو م کی قضا شدہ نمازوں کے فدیہ کی مقدار ادا ہوجائے تو اس طرح فدیہ ادا ہوجائے گا اور اب وہ رقم سب سے آخر میں جس نادار ومستحق شخص کو ملے گی، وہی اس رقم کا مالک ہوگا اور اسے ہر طرح اس رقم کو خرچ کرنے کا اختیار ہوگا، نیز آخر میں ورثاء  کا رقم کو آپس میں تقسیم کرنا یا کسی غنی ومال دار اور غیر مسکین کا اس رقم کو لینا جائز نہ ہوگا، اور نہ ہی  اس آخری مستحق شخص پر رقم کی واپسی کے لیے کسی قسم کا دباؤ وغیرہ ڈالنا درست ہوگا۔
آج کل  بعض لوگ  علاقوں میں اسے معمول بنادیا گیا ہے ، حا ل آں کہ  فقہاء نے  صرف غریب میت کے لیےاس کی اجازت دی تھی، اور پھر جن شرائط اور آداب کی رعایت رکھتے ہوئے اس کی اجازت تھی ان کا بھی قطعاً خیال نہیں کیا جاتا، اس لیے مروجہ  حیلہ اسقاط ناجائزہے ؛ اس میں درج ذیل مفاسد پائے جاتے ہیں:

1۔۔ عموماً  جو مال اس میں   لوگوں  کے درمیان گھمایا جاتا ہے وہ میت کی ملکیت ہوتا ہے ، اس میں  تمام ورثہ کی اجازت کے بغیر  تصرف کرنا شرعاً جائز نہیں ہے،بالخصوص جب کہ  ورثاء میں نابالغ بھی  ہوں جن کی اجازت کا بھی کوئی اعتبار نہیں۔اور  ان میں اگر بڑے لوگ بھی ہوں تب بھی ان کی طیب نفس (خوش دلی) عام طور پر نہیں ہوتی۔

2۔۔مال کو اس طرح لوگوں کے درمیان گھمانے سے یہ مال اگلے شخص کی ملکیت نہیں بنتا؛ اس لیے کہ اس میں ہر ایک دوسرے سے مال لیتا رہتا ہے اگر کوئی  انکار کردے تو اس پرزبردستی بھی کی جاتی ہے۔ اس لیے اس سے اس میت کا فدیہ بھی ادا نہیں ہوتا۔

3۔۔فدیہ کی ادائیگی میں مصرف کو ادا کرنا ضروری ہے، جب کہ اس حیلہ میں اس کی کوئی رعایت نہیں کی جاتی ،بلکہ اغنیاء بھی اس میں شریک ہوتے  ہیں۔

4۔۔اس حیلہ میں آخری شخص کی ملکیت میں مال آجاتا ہے، اس  کی مرضی کے بغیر اس سے لے کر آگے دوسروں  کو دیاجاتا ہے جو کہ جائز نہیں۔

5۔۔نیز اس حیلہ کو لازم سمجھ کر کرنا خود ایک بدعت ہے؛ لہذا اس سے اجتناب لازم ہے۔

'' عن سعد بن إبراهيم سمع القاسم قال: سمعت عائشة  تقول: قال رسول الله صلی الله علیه وسلم: من عمل عملاً لیس علیه أمرنا فهو رد''.(مسند احمد بن حنبل ۶/۱۸۰، رقم : ۲۵۹۸۶، ۶/۲۵۶، رقم:۲۶۷۲۱)

''وبه ظهر حال وصایا أهل زماننا ، فإن الواحد منکم یکون في ذمته صلوات کثیرة وغیرها من زکاة وأضاح وأیمان، ویوصي لذلك بدراهم یسیرة، ویجعل معظم وصیته لقراءة  الختمات والتها لیل التي نص علماؤنا علی عدم صحة الوصیة بها''۔(شامی، کتاب الصلاۃ ، باب قضاء الفوائت ، مطلب فی بطلان الوصیتہ بالنخمات والتہالیل، زکریا۲/۵۳۴)
'' قال الطيبي: وفيه أن من أصر على أمر مندوب، وجعله عزماً، ولم يعمل بالرخصة فقد أصاب منه الشيطان من الإضلال ، فكيف من أصرّ على بدعة أو منكر؟''( مرقاۃ 3/31،  کتاب الصلاۃ،  الفصل الاول، ط: رشیدیہ)فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909201083

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے