بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

22 جُمادى الأولى 1441ھ- 18 جنوری 2020 ء

دارالافتاء

 

حکومتِ وقت کی جانب سے نوجوانوں کو دیے جانے والے قرضہ کا شرعی حکم


سوال

 گورنمنٹ نے جو اسکیم نکالی ہے نوجوان آسان قرضے  کی وہ اسلامی لحاظ سے ٹھیک ہے یا نہیں؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں نوجوانوں کو قرضہ دینے کے حوالے  سے جس اسکیم کا اعلان کیا گیا ہے ، اس میں آٹھ سال میں قسط وار  واپسی میں اصل رقم سے زائد رقم کی ادائیگی کو لازم قرار دیا ہے، جو کہ قرض پر مشروط نفع کی ادائیگی کی  قبیل سے ہے۔ اور یہ از روئے شرع سود ہے، لہذا ایسا قرضہ لینا شرعاً جائز نہیں۔  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144103200408

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے