بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 شعبان 1441ھ- 06 اپریل 2020 ء

دارالافتاء

 

حور عین نام


سوال

لفظِ ’’حرین‘‘  ٹھیک ہے یا ’’حور عین‘‘؟  کیوں کہ حرین نام بہت سے لوگوں نے اپنی بچیوں کا رکھا ہے؟

جواب

’’حورِ عین‘‘  کا معنی "سیاہ چشم عورت" ہے، جس کی آنکھوں کی سفیدی نہایت سفید اور سیاہی نہایت سیاہ ہو، قرآنِ کریم میں بھی یہ لفظ استعمال ہوا ہے، یہ نام رکھنا درست ہے۔

’’حُرّین‘‘  اگر حاء کے پیش اور راء کے زبر کے ساتھ پڑھا جائے تو یہ "حرّ" سے ماخوذ ہے، جس کا معنی ہے: آزاد. اور "حُرّین" کا معنی ہوگا "دو آزاد مرد".

اور اگر سے "حَرِین" پڑھا جائے تو اس کا معنی ہے:  "وہ تیز رفتار جانور جو دوڑتے دوڑتے رک جائے". لہٰذا یہ نام رکھنا درست نہیں۔ اپنے بچوں کا کوئی بامعنی نام رکھا جائے۔

محیط اللغۃ میں ہے:

"حورة بفتحتين أيضًا والحور أيضًا: شدة بياض العين في شدة سوادها، وامرأة حوراء: بينة الحور، يقال: احورت عينه احوراراً، قال الأصمعي: ما أدري ما الحور في العين، وقال أبوعمرو: الحور أن تسود العين كلها مثل أعين الظباء والبقر، وقال: وليس في بني آدم حور، وإنما قيل للنساء: حور العيون تشبيهاً بالظباء والبقر". (1/69، ط: دارالكتب العلمية)

معجم متن اللغۃ (احمد رضا) میں ہے:

"حرّ «كتَعِب» حرارًا: عتق. وـ العبد: صار حرًّا. وـ حرية: من حرية الأصل". (2/59، ط: دار مكتبة الحياة)

لسان العرب میں ہے:

"(حرن) حرِنت الدابة تحرُن حِراناً وحُراناً وحرُنت لغتان وهي حرون، وهي التي إذا استدرَّ جريها وقفت، وإنما ذلك في ذوات الحوافر خاصة، ونظيره في الإبل اللجان والخلاء، واستعمل أبو عبيد الحران في الناقة، وفي الحديث ما خلأت ولا حرنت ولكن حبسها حابس الفيل". (3/145، ط: داراحياء تراث العربي) فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144012200960

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے