بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 18 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

حوالہ میں محال کا رقم وصول نہ کرنا اور محال بہ کا دیوالیہ ہوجانا


سوال

احمد نے محمود کو  بکر پر حوالہ دیا, بکر نے اس حوالے کے عوض میں محمود کو بینک کا چیک دے دیا، محمود نے غفلت کی وجہ سے وہ چیک دس دن تک کیش نہیں کیا،  اسی دس دن میں احمد نے اوروں کو بھی بکر پر حوالے دیے، بکر نے اس حوالے کے عوض لوگوں کو چیک دے دیا جہنو ں نے کیش بھی کیے، اس کے بعد بکر نے اپنے آپ کو دیوالیہ ظاہر کیا اور کہیں روپوش ہوگیا۔  اب سوال یہ ہے کہ محمود کا احمد کے اوپر جو ادھار تھا کیا اب بھی باقی ہے یانہیں ہے؛ کیوں کہ محمود کی غفلت کی وجہ سے اسے نقصان اٹھانا پڑا اور اس چیک کا ذمہ کس پر ہے؟

جواب

بکر کی جانب سے چیک کی ادائیگی قبضہ اور ادائیگی شمار نہ ہوگی، جب تک کہ محمود وصول نہ کرے، اور چیک کیش کرانے میں غفلت سے حق ساقط نہیں ہوگا؛  لہذا محمود کا حق اب بھی باقی ہے، اگربکر کو عدلیہ دیوالیہ قراردےدے تو قرض احمد پر لوٹ جائےگا، اس کے ذمہ لازم ہوگا۔

الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار (ص: 461):
"(ولايرجع المحتال على المحيل إلا بالتوى) بالقصر ويمد: هلاك المال لان براءته مقيدة بسلامة حقه. وقيده في البحر بأن لايكون المحيل هو المحتال عليه ثانياً (هو) بأحد أمرين (أن يجحد) المحال عليه (الحوالة ويحلف ولا بينة له) أي المحتال ومحيل (أو يموت) المحال عليه (مفلساً) بغير عين ودين وكفيل وقالا بهما وبأن فلسه الحاكم (ولو اختلفا فيه) أي في موته مفلساً، وكذا في موته قبل الاداء أو بعده (فالقول للمحتال مع يمينه على العلم) لتمسكه بالاصل وهو العسرة. زيلعي. وقيل القول للمحيل بيمينه".

 الهندیة(۱۷۱/۱):

"ولو أمر فقیراً بقبض دین له علی آخر ونواه عن زکاة عین عنده جاز". فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012200384

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے