بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 26 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

حلال اجزاء سے بنی نیل پالش لگانے کا حکم


سوال

کیا حلال نیل پولش لگا سکتے ہیں؟ کیا اس کو لگانے کے بعد وضو کرنے سے وضو ہو جاتا ہے؟

جواب

واضح رہےکہ اگر نیل پالش میں ناپاک اشیاء استعمال کی گئی ہوں تو اس کا لگانا جائز نہیں ہو گا اور اگر اس میں ناپاک اجزاء کا استعمال نہ ہو تو اس کا لگانا جائز ہو گا، لیکن جس نیل پالش کی وجہ سے ناخنوں پر تہہ جم جاتی ہو (خواہ وہ کیمیکل سے ہٹانا پڑے یا دوسرے ناخن سے رگڑنے سے ہٹ جائے)  اس کو لگانے کی وجہ سے چوں کہ پانی جلد تک نہیں پہنچتا؛ اس لیے وضو / غسل کرنے سے پہلے اس کو ہٹانا ضروری ہو گا۔

اور جس نیل پالش کے بارے میں تحقیق سے ثابت ہو کہ اس کی تہہ ناخن پر نہیں جمتی، بلکہ پانی اس کے نیچے تک پہنچ جاتا ہے تو ایسی نیل پالش وضو کے لیے مانع نہ ہو گی۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144105200500

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے