بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 شعبان 1441ھ- 08 اپریل 2020 ء

دارالافتاء

 

حضور علیہ السلام کے جنازہ کی کیفیت اور کتاب اللہ و کلام اللہ میں فرق


سوال

1. مجھے ایک مولانا کے بیان میں اشکال ہے جن کا بیان میں نے سنا، وہ فرماتے ہیں: حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا کہ جب تم مجھے غسل دے کر فارغ ہوگے تو مجھے کمرے میں تنہا چھوڑنا، سب سے پہلے میرا اللہ میرا جنازہ پڑھے گا، اس کے بعد جبرائیل پھر میکائیل پھر اسرافیل وغیرہ وغیرہ ؟ کیا اس طرح کوئی حدیث ہے؟ اگر اس طرح کی کوئی حدیث نہیں تو مولانا کو تجدیدِ ایمان اور تجدیدِ نکاح کی ضرورت ہوگی یا نہیں؟

2۔ اور اسی مولانا کا دوسرا بیان میں نے سنا، اس میں فرماتے ہیں : تورات، زبور، انجیل آسمانی کتاب ہیں، اللہ کا کلام نہیں، اسی طرح صحیفے بھی اللہ کا کلام نہیں، صرف قرآنِ مجید آسمانی کتاب اور اللہ کا کلام ہے؟ اگر واقعی تورات، زبور، انجیل آسمانی کتاب ہیں تو مولانا کو ان الفاظ سے توبہ اور تجدیدِ ایمان کرنا چاہیے یا نہیں؟ لہذا مدلل جواب دے کر مشکور فرمائیں!

جواب

جس حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر نمازِ جنازہ پڑھے جانے کی تفصیل ہے وہ یہ ہے:

البداية والنهاية (5/ 285):

"كيفية الصلاة عليه صلى الله عليه وسلم: وقد تقدم الحديث الذي رواه البيهقي من حديث الأشعث بن طليق، والبزار من حديث الأصبهاني كلاهما عن مرة عن ابن مسعود: في وصية النبي صلى الله عليه وسلم أن يغسله رجال أهل بيته، وأنه قال: كفنوني في ثيابي هذه أو في يمانية أو بياض مصر، وأنه إذا كفنوه يضعونه على شفير قبره ثم يخرجون عنه حتى تصلي عليه الملائكة، ثم يدخل عليه رجال أهل بيته فيصلون عليه، ثم الناس بعدهم فرادى. الحديث بتمامه. وفي صحته نظر كما قدمنا والله أعلم".

البداية والنهاية (5/ 273):

"عن عبد الله بن مسعود قال: لما ثقل رسول الله صلى الله عليه وسلم اجتمعنا في بيت عائشة، فنظر إلينا رسول الله صلى الله عليه وسلم فدمعت عيناه، ثم قال لنا: قد دنا الفراق، ونعى إلينا نفسه، ثم قال: مرحباً بكم حياكم الله، هداكم الله، نصركم الله، نفعكم الله، وفقكم الله، سددكم الله، وقاكم الله، أعانكم الله، قبلكم الله، أوصيكم بتقوى الله، وأوصي الله بكم، وأستخلفه عليكم، إني لكم منه نذير مبين، أن لا تعلوا على الله في عبادة وبلاده.
فإن الله قال لي ولكم : ﴿ تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِيْنَ لَايُرِيْدُوْنَ عُلُوًّا فِي الْاَرْضِ وَلَافَسَادًا وَّالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِيْنَ﴾ [ القصص: 83 ]، وقال: ﴿ اَلَيْسَ فِيْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْمُتَكَبِّرِيْنَ﴾ [ العنكبوت: 68 ]. قلنا: فمتى أجلك يا رسول الله ؟ قال: قد دنا الأجل، والمنقلب إلى الله والسدرة المنتهى والكأس الأوفى والفرش الأعلى. قلنا: فمن يغسلك يا رسول الله ؟ قال: رجال أهل بيتي الأدنى فالأدنى مع ملائكة كثيرة يرونكم من حيث لا ترونهم. قلنا: ففيم نكفنك يا رسول الله ؟ قال: في ثيابي هذه إن شئتم أو في يمنية أو في بياض مصر. قلنا: فمن يصلي عليك يا رسول الله ؟ فبكى وبكينا. وقال: مهلا! غفر الله لكم، وجزاكم عن نبيكم خيراً، إذا غسلتموني، وحنطتموني وكفنتموني فضعوني على شفير قبري. ثم أخرجوا عني ساعة، فإن أول من يصلي علي خليلاي وجليساي جبريل وميكائيل ثم إسرافيل، ثم ملك الموت مع جنود من الملائكة عليهم السلام، وليبدأ بالصلاة علي رجال أهل بيتي، ثم نساؤهم، ثم ادخلوا علي أفواجاً أفواجاً وفرادى فرادى".

مذکورہ حدیث کے الفاظ سے پتا چلتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے وصال سے پہلے ہی اس بات کی خبر دے دی تھی کہ سب سے پہلے فرشتے (جبریل، میکائیل اور ملک الموت وغیرہم) میری نمازِ جنازہ پڑھیں گے،  لیکن اس حدیث میں کہیں اس بات کا ذکر نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر نمازِ جنازہ پڑھی۔ 

اگر کسی عالم نے واقعۃً یہ کہا ہے کہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا کہ جب تم مجھے غسل دے کر فارغ ہوگے تو مجھے کمرے میں تنہا چھوڑنا، سب سے پہلے میرا اللہ میرا جنازہ پڑھے گا، اُن ہی سے اس بات کا حوالہ طلب کیا جا سکتا ہے، ہمیں ایسی کسی بات کا حدیث میں ذکر نہیں ملا، اگر ان کے پاس حوالہ ہو تو اس کی حیثیت اور مذکورہ عالم صاحب کے بیان کے الفاظ بعینہ دیکھ کر حکم بتایا جاسکتاہے۔ اور اگر ان کے پاس اس بات کا کوئی حوالہ نہیں تو  اس طرح کی باتوں سے احتراز کرنا چاہیے،   ان کو اس سے توبہ و استغفار کرنا چاہیے۔ تجدیدِ ایمان ونکاح کی ضرورت نہیں۔ 

2. انبیاءِ کرام علیہم السلام پر وحی نازل ہونے کی مختلف صورتیں تھیں، کبھی تو فرشتہ وحی لے کر آتا، کبھی لکھی ہوئی کتاب مل جاتی،کبھی اللہ تعالی بغیر کسی واسطے کے خود کلام فرماتے،الغرض انبیاء کرام علیہم السلام پر وحی جس صورت میں بھی آئے وہ اللہ کا کلام ہے اور اسی کا نازل کردہ قانون و حکم ہے، چناں چہ جس طرح قرآن کتاب اللہ ہونے کے ساتھ ساتھ کلام اللہ بھی ہے، اسی طرح دیگر آسمانی کتابیں کتاب اللہ بھی ہیں کلام اللہ بھی ہیں، قرآنِ مجید میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے یہودیوں کی کتاب اللہ میں تحریف کا ذکر یوں فرمایاہے:

﴿ اَفَتَطْمَعُوْنَ اَنْ يُّؤْمِنُوْا لَكُمْ وَقَدْكَانَ فَرِيْق مِّنْهُمْ يَسْمَعُوْنَ كَلٰمَ اللّٰهِ ثُمَّ يُحَرِّفُوْنَهٗ مِنْ بَعْدِ مَاعَقَلُوْهُ وَهُمْ يَعْلَمُوْنَ ﴾ (البقرة:75)

ترجمہ: ' کیا تم (مسلمان) امید رکھتے ہو کہ یہ (یہود) ایمان لے آئیں گے تم (یعنی تمہارے دین) پر! حال آں کہ ان میں ایک فریق (گروہ) اللہ کا کلام سنتاتھا پھر اسے سمجھنے کے بعد اس میں تحریف کرتاتھا باوجود یہ کہ وہ جانتے تھے۔

مذکورہ آیت میں تورات کو کلام اللہ کہاگیا ہے، لہٰذا دیگر آسمانی کتابیں بھی اللہ کا کلام ہیں۔

تاہم یہ ایک دقیق علمی بحث ہے، اور اس حوالے سے محققین علماءِ کرام نے کلام بھی کیا ہے، عوام کے سامنے ایسی گہری مباحث نہیں ذکر کرنی چاہییں، لہذا مذکورہ عالم کو چاہیے کہ وہ قرآنِ مجید کے علاوہ دیگر آسمانی کتب کے کلام اللہ ہونے کا انکار نہ کریں۔ لیکن اس کی وجہ سے تجدیدِ ایمان اور تجدیدِ نکاح کی چنداں حاجت نہیں ہے۔

نیز  سوال کرنے والے کے لیے ادب یہ ہے کہ جتنی بات سے اس کی علمی وعملی کامیابی کا تعلق ہے اس حد تک سوال کرے، اور اپنے دائرہ اختیار تک اصلاح کی کوشش کرے، مثلاً: مذکورہ دونوں باتوں کے حوالے سے یہ جاننا کہ یہ باتیں درست ہیں یا نہیں؟ یہ سائل کی ذمہ داری ہے، لیکن جس شخص کی اصلاح اور تربیت کی ذمہ داری یا اختیار نہ ہو، اس کے حوالے سے یہ سوال کرنا کہ اسے تجدیدِ ایمان اور تجدیدِ نکاح کرنا چاہیے یا نہیں؟ یہ طرز مناسب معلوم نہیں ہوتا۔  مذکورہ دونوں ہی مسائل کے حوالے سے اس بات کا امکان موجود ہے کہ سائل مذکورہ عالم کے بیان کی تعبیر اور الفاظ مکمل طور پر نہ سمجھ سکاہو۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143908200066

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے