بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 ربیع الاول 1442ھ- 21 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

حضرت حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما کے ناموں کے ساتھ ’’علیہ السلام / علیہم السلام‘‘ لکھنا


سوال

 کیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسوں حضرت حسن ؓاور حضرت حسین ؓکے ناموں کے ساتھ ’’علیہ السلام / علیہم السلام‘‘ لکھنا درست ہے؟ راقم کی معلومات کے مطابق فقہ جعفریہ میں دونوں صحابہ کرام ؓکے نام کے ساتھ ’’علیہ السلام‘‘ لکھا جاتا ہے جب کہ فقہ حنفیہ میں دونوں صحابہ کرام ؓکے ناموں کے ساتھ ’’رضی اللہ عنہ‘‘ لکھا جاتا ہے۔ اس ضمن میں آپ کا فتویٰ درکار ہے!

جواب

لغوی معنی کے اعتبار سے "علیہ السلام" کا معنی ہے "ان پر سلامتی ہو"، اس معنی کے اعتبار سے مذکورہ لفظ کسی بزرگ کے لیے استعمال کرنا ممنوع نہیں ہے، جیساکہ ہم روز مرہ السلام علیکم کے جواب میں "وعلیکم السلام" کا لفظ استعمال کرتے ہیں، البتہ اہل سنت والجماعت کے ہاں "علیہ السلام" کے الفاظ انبیاءِ کرام علیہم السلام ، اور "رضی اللہ عنہ" کے الفاظ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ خاص ہیں، اور یہ شعائرِ اہلِ سنت میں سے ہے، لہٰذا اس کے خلاف کرنا شعارِ اہلِ سنت کی مخالفت ہے۔ (سابقہ فتاویٰ جامعہ )

مفتی محمود حسن گنگوہی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

"ملاعلی قاری رحمہ اللہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ "علیہ السلام" لکھنے کوشعارِ شیعہ واہلِ بدعت فرمایاہے،اس لیے وہ منع فرماتے ہیں..."۔ (فتاوی محمودیہ19/145،فاروقیہ)

ملاعلی قاری رحمہ اللہ کی عبارت مندرجہ ذیل ہے:

" أن قوله: "علي علیه السلام" من شعار أهل البدعة، فلایستحسن في مقام المرام". (الفقه الأکبر، ص:167،ط:قدیمی)

حضرت مولانامحمدیوسف لدھیانوی شہیدرحمہ اللہ لکھتے ہیں:

''اہل سنت والجماعت کے یہاں "صلی اللہ علیہ وسلم" اور "علیہ السلام" انبیائے کرام کے لیے لکھاجاتاہے،صحابہ کے لیے "رضی اللہ عنہ" لکھناچاہیے،حضرت علی کے نامِ نامی پر"کرم اللہ وجہہ" بھی لکھتے ہیں"۔ (آپ کے مسائل اوران کاحل1/202،لدھیانوی) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004200148

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں