بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 22 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

حضرت عمررضی اللہ عنہ کا اپنے بیٹے کو طلاق کا حکم دینا


سوال

ایک  صاحب نے  یہ واقعہ بیان فرمایا ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بیٹے حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک پسند کی عورت سے شادی کی اور شبِ زفاف کی رات کو فجر کی نماز میں جماعت میں شرکت نہ کی، حضرت نے دریافت فرمایا کہ آپ جماعت میں شریک نہیں ہوئے، کیا وجہ بنی؟ بیٹے نے عرض کیا:  گھر میں نماز پڑھ لی ھے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اپنی بیوی کو طلاق دے دو ۔بیٹا حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا کہ کیا کروں؟  حضورِ  اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  طلاق دے دو۔  کیا یہ واقعہ درست ہے؟

جواب

احادیث کی کتابوں میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا اپنے صاحب زادے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو ان کی اہلیہ سے متعلق طلاق دینے کا حکم موجود ہے، اور محدثین نے لکھا ہے کہ اس حکم کے پس منظر میں کوئی دینی مصلحت یا اس عورت کی موجودگی کی بنا  پر کسی دینی مضرت کا اندیشہ موجود تھا، اس لیے انہیں طلاق کا حکم دیاگیا ہے.  تاہم جوتفصیل آپ نے لکھی ہے  وہ کتبِ احادیث  یا کسی مستند حوالے میں تلاش کے باوجود نہیں مل سکا۔

سنن ابی داؤد میں ہے :

’’ حضرت عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ ایک عورت میرے نکاح میں تھی اور میں اس سے محبت کرتا تھا اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کو ناپسند کرتے تھے، انہوں نے کہا کہ اسے طلاق دے دو.  میں نے انکار کیا تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے اور آپ ﷺ سے یہ بات ذکر کی، آپ ﷺ نے فرمایا کہ اسے طلاق دے دو‘‘۔

دلیل الفالحین میں ہے :

"(وعن ابن عمر) بن الخطاب (رضي الله عنهما قال: كانت تحتي امرأة) لم أقف على من سماها (وكنت أحبها وكان عمر يكرهها فقال لي: طلقها) أمره بذلك؛ لكراهته لها، والظاهر أنها دينية، أو خشي أن تجره إلى ضرر في دينه (فأبيت) أي لما لها من الحبّ عندي (فأتى عمر النبيّ فذكر له ذلك) أي إبائي وامتناعي من طلاقها بعد أمره به (فقال النبي:) من باب زيادة البر بالوالد (طلقها)، والظاهر أنه طلقها؛ لأنه لايتخلف عن امتثال أمر النبي، وكأن السكوت على ذلك للعلم به من أحواله وكمال اتباعه المانع ذلك من خطور البال لمخالفة أمره". (رواه أبو داود والترمذي وقال: حديث حسن صحيح).(2/485) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004200886

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے