بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

حضرت علی و حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ میں نزاع کا سبب


سوال

حضرت علی اور حضرت معاویہ میں جنگ کیوں ہوئی اور وجہ کیا تھی؟

جواب

واضح رہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کے لیے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا چناؤ اللہ رب العزت نے خود فرمایا،  اور ان محترم اشخاص کی تربیت خود رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کروائی،  جس کی برکت سے یہ اشخاص ظاہری و باطنی رذائل و برائیوں سے محفوظ کردیے گئے تھے،  جس کی وجہ سے آپس میں ذاتی مفاد یا عناد کی بنا پر آپس میں دست و گریباں نہیں ہوا کرتے تھے، جس کی شہادت خود خالقِ کائنات نے سورۂ فتح میں ﴿أشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيْنَهُمْ﴾  نازل فرماکر دی ہے،  پس صحابہ کرام کے درمیان اگر کسی موقع پر ظاہری اختلاف یا نزاع کی صورت تاریخ کے اوراق میں نظر آتی ہے تو اس کا سبب ذاتی یا دنیاوی مفاد ہر گر نہیں تھا،  بلکہ اس کا سبب کسی دینی معاملہ میں اجتہاد کا فرق  تھا،  یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے درمیان ہونے والے ظاہری نزاع کو مشاجرۃِ صحابہ سے تعبیر کیا جاتا ہے اور دونوں فریق میں سے کسی ایک کو ظالم قرار دینا یا اسلام دشمن قرار دینا بالکل غلط ہے۔

پس حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان ہونے والے ظاہری نزاع کا اصل سبب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلین سے قصاص لینے کا معاملہ تھا، حضرت علی رضی اللہ عنہ خلافت کی باگ ڈور سنبھالنے اور خلافت کو مظبوط کرنے کے بعد قصاص لینا چاہتے تھے، فوری قصاص لینے کو خلافتِ اسلامیہ کے لیے نقصان دہ تصور کررہے تھے، جب کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا کہنا یہ تھا کہ اگر فوری قصاص نہ لیا تو لوگ بقیہ صحابہ و اکابرینِ امت پر دست درازی کرنے کے سلسلہ میں جری ہو جائیں گے، اس اجتہادی اختلاف کی بنا پر معاملہ آگے بڑھتا گیا اور نوبت جنگ تک جا پہنچی تھی،  مگر اس جنگ کی بنا پر دونوں اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں سے کسی ایک پر طعن و تشنیع کرنا شرعاً جائز نہیں اور آخرت میں وبال کا باعث ہے۔

شرح العقائد النسفية میں ہے:

"وما وقع من المخالفات و المحاربات لم يكن من نزاعٍ في خلافته، بل عن خطاء في الإجتهاد".

و في هامشه:

"والمقصود منه دفع الطعن من معاوية و من تبعه من الأصحاب و عن طلحة و زبير و عائشة؛ فإن الواجب حسن الظن بأصحاب رسول الله صلي الله عليه وسلم و اعتقاد براءتهم عن مخالفة الحق؛ فإنهم أسوة أهل الدين و مدار معرفة الحق و اليقين". (ص: ١٥٢، ط: المصباح)

النبراس على شرح عقائدمیں ہے:

"خصه بالذكر؛ لأن حربه أشهر من حرب الباقين؛ و الخطاء هو الاستعجال في طلب قصاص عثمان رضي الله عنه زعماً أن التاخير يوجب جرءة العوام على الأكابر، و كثيراً ما يفوت المطلوب..." الخ (ص: ٥٠٢، ط: رشيدية)فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144001200131

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے