بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 15 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

 حضرت امی عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو اللہ کی طرف سے سلام


سوال

 حضرت امی عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو اللہ کی طرف سے سلام آیا تھا۔  آیا یہ حدیث صحیح ثابت ہے یا نہیں؟ 

جواب

صحیح بخاری میں ایک حدیث ہے  جس میں یہ ذکر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ یہ جبرئیل امین آپ کو سلام کہہ رہے ہیں. اس پر امی عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے سلام کا جواب دیا. 

"رواه البخاري ـ باب فَضْلِ عَائِشَةَ رضى الله عنها: 
"  حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ إِنَّ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمًا: ‏"‏ يَا عَائِشَ، هَذَا جِبْرِيلُ يُقْرِئُكِ السَّلاَمَ ‏"‏‏.‏ فَقُلْتُ: وَعَلَيْهِ السَّلاَمُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، تَرَى مَا لاَ أَرَى‏، تُرِيدُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم‏".‏ 

لیکن اس میں یہ صراحت نہیں کہ جبرئیل علیہ السلام کا یہ سلام  اللہ تعالی کی جانب سے تھا.

ہاں! حضرت خدیجہ رضٰی اللہ عنہا سے متعلق  ایک روایت میں" من ربک" کی صراحت آئی ہے، یعنی آپ کے رب کی طرف سے سلام لائے ہیں. اور دوسری  روایت میں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے لیے " سلام الله" کی صراحت ہے. 

شرح الحديث من إرشاد الساري:

"باب إِذَا قَالَ: فُلاَنٌ يُقْرِئُكَ السَّلاَمَ.
هذا (باب) بالتنوين (إذا قال) شخص لآخر: ( فلان يقرئك السلام) بضم التحتية من أقرأ، ولأبي ذر عن الكشميهني: يقرأ عليك السلام بفتح التحتية.
وبه قال: ( حدّثنا أبو نعيم) الفضل بن دكين قال: ( حدّثنا زكريا) بن أبي زائدة الكوفي ( قال: سمعت عامرًا) الشعبي (يقول: حدثني) بالإفراد ( أبو سلمة بن عبد الرحمن) بن عوف ( أن عائشة -رضي الله عنها- حدثته أن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قال لها) :
يا عائشة ( إن جبريل يقرؤك السلام) بضم التحتية ولأبي ذر يقرأ بفتحها عليك السلام.
قال النووي: يعني يقرأ السلام عليك وقال غيره: كأنه حين يبلغه سلامه يحمله على أن يقرأ السلام ويرده (قالت: وعليه السلام ورحمة الله) .
ولما بلغ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خديجة عن جبريل سلام الله تعالى عليها، قالت: إن الله هو السلام ومنه السلام وعلى جبريل السلام. رواه الطبراني. وزاد النسائي من حديث أنس: وعليك يا رسول الله ورحمة الله وبركاته، ففيه استحباب الردّ على المبلغ، وفي النسائي عن رجل من بني تميم أنه بلغ النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سلام أبيه فقال له: وعليك وعلى أبيك السلام.
قال الحافظ ابن حجر: لم أر في شيء من طرق حديث عائشة أنها ردت على النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فدلّ على أنه غير واجب"۔

شرح صحيح البخارى لابن بطال (9/ 350):

" (يَا عَائِشَ، هَذَا جِبْرِيلُ يُقْرِئُكِ السَّلامَ) ، قُلْتُ: وَعَلَيْهِ السَّلامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ، قَالَتْ: وَهُوَ يَرَى مَا لا أَرَى".

عمدة القاري شرح صحيح البخاري (16/ 250):
" وَاسْتدلَّ بِهِ بَعضهم لفضل خَدِيجَة على عَائِشَة لِأَن الَّذِي ورد فِي حق خَدِيجَة أَن النَّبِي صلى الله عَلَيْهِ وَسلم قَالَ لَهَا: (إِن جِبْرِيل يُقْرِئك السَّلَام من رَبك) ، وَهنا: السَّلَام من جِبْرِيل خَاصَّة". 
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008201477

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے