بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 12 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

حرام کمائی والا حلال رقم سے کھانا کھلائے تو اس کا حکم


سوال

قریبی رشتہ دار مثلاً چچا تایا کی آمدن سود ہے ، اور اسی سودی آمدنی سے گھر کا کرایہ اور جملہ معاملات چلائے جاتے ہیں، کیا ان کے گھر آنا جانا ،کھانا پینا کیا جا سکتا ہے ؟ نیز اگر ( چچا ،تایا) کے بچے رزق ِ حلال کما رہے ہوں، اس صورت میں وہ ہمیں اپنے گھر دعوت میں اس شرط پر بلائیں کہ آپ کے کھانے پینے کی اشیاء بچوں کی حلا ل کمائی سے لائیں گے تو اس صورت میں کیا ان کی دعوت قبول کی جا سکتی ہے؟ یہ بات پیش ِ نظر رہے کہ گھر کے کل معاملات سودی آمدن سے ہی چلائے جاتے ہیں مثلاً گیس ، پانی ، الیکٹرک بلز، برتن ، بیٹھنے کے صوفے ، بیڈ وغیر ہ.

جواب

مذکورہ صورت میں جب دعوت کا کھانا حلال کمائی سے ہونا معلوم ہو تو دعوت قبول کرنا اور کھانا جائز ہے،تاہم گیس وغیرہ کے بل اور دیگر آلات چونکہ سودی آمدنی سے ہی ہیں اس لیے قبول نہ کرنا بہتر ہوگا۔البتہ  تایا  چچا کے  ساتھ حسن سلوک سے ہی پیش آنا چاہیے ۔واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143701200047

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے