بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 19 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

حرام مال سے قربانی


سوال

میرے ساتھ میرابڑابھائی مل کرایک بیل لاناچاہتا ہےقربانی کے لیے،لیکن اس کےپیسےمشکوک ہیں، وہ جوا بھی کھیلتا ہے، اگرمیں اسےساتھ شریک نہ کروں توبہت جھگڑاکرے گا، میں اگراپنےحلال پیسےسےبیل لے آؤں  اوراس کےمشکوک پیسے لے کر بیل کی قیمت میں نہ  ملاؤں، کسی اورکام میں میرےخرچ کرلوں توقربانی پر اثرپڑے گا یا نہیں؟

جواب

اگر آپ اپنی حلال رقم سے قربانی کا جانور لاکر  اسے (بتاکر کسی طرح) بغیر معاوضہ کے اپنے ساتھ شریک کرلیتے ہیں تو قربانی درست ہوجائے گی۔ فقط واللہ اعلم

 


فتوی نمبر : 144012200071

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے