بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 صفر 1442ھ- 25 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

حرام آمدن والے شخص کے ہاتھ مال فروخت کرنا


سوال

 زید نے عمرپرموٹرسایکل فروخت کیا اورعمرنے دوسرے پرفروخت کیا ،اب زیدکو معلومات ہو‏ئی کہ عمرکے اکثرآمدنی حرام ہے :یعنی رشوت اورچوری سےہے۔ اب دریافت طلب امریہ ہے کہ زید عمرسے ابھی تک پیسے نہیں لیا ،لیکن وہ اب چاہتاہے کہ اپنی پیسے لے لیں ۔ توشرعاً کیساہےزیداپنی پیسےلےسکتاہے یانہیں ؟ اگرنہیں لے سکتاہے توزید کیلئے ‏شرعاً کیاحکم ہے ؟ 

جواب

ضابطہ یہ ہے کہ حرام کمانے والے شخص کے ہاتھ کوئی چیز فروخت کرنا جائز ہے مگر مال حرام سے قیمت وصول کرنا جائز نہیں، بلکہ خریدار سے حلال مال کا مطالبہ کیا جائے۔ یہ حکم اس وقت ہے کہ جب بیچنے والے کو پہلے سے معلوم ہو کہ خریدار کی کل یا اکثر آمدن حرام ہے، اور اگر لاعلمی میں اس کے ہاتھ کوئی چیز فروخت کردی تو اس کی قیمت لینا جائز ہے۔  صورت مسولہ میں چونکہ زید کو عمر کی آمدن کے حرام ہونے کا بعد میں علم ہوا ہے اس لیئے اب اس سے قیمت وصول کرسکتا ہے۔ واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143706200006

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں