بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 شوال 1441ھ- 28 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

حرام آمدنی والے کی قربانی


سوال

بینک ملازم کا ذریعہ آمدنی صرف بینک کی تنخواہ ہے ، اور ان پر قربانی بھی واجب ہے،  آیا وہ کس طرح اپنی قربانی کرے گا ؟

جواب

بینک کا مدار سودی نظام پر ہے، اور  سود ی رقم ہی سے ملازمین کو تنخواہ دی جاتی ہے اور  سود کا لینا دینا، لکھنا اور اس میں گواہ بننا سب ناجائز  اور حرام ہے، اور بینک  ملازم سود لینے ، دینے  یا لکھنے کے کام میں مصروف ہوتے ہیں  یا کم سے کم ان کاموں میں معاون ہوتے ہیں اور یہ سب ناجائز و حرام ہیں،  لہذا بینک  کی ملازمت  ناجائز ہے  اور تنخواہ بھی حرام ہے، لہذا  مذکورہ شخص کو چاہیے کہ  توبہ واستٖغفا ر کرے اور  کوئی جائز ذریعہ آمدنی تلاش کرے اور پھر بینک کی ملازمت ترک کردے، باقی مذکورہ شخص کے پاس صرف یہی بینک کی آمدنی ہی کی ہے تو اس پر قربانی واجب نہیں۔

صحيح مسلم (2/ 703)
'' عن أبي حازم، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " أيها الناس، إن الله طيب لا يقبل إلا طيباً، وإن الله أمر المؤمنين بما أمر به المرسلين، فقال: {يا أيها الرسل كلوا من الطيبات واعملوا صالحاً، إني بما تعملون عليم} [المؤمنون: 51] وقال: {يا أيها الذين آمنوا كلوا من طيبات ما رزقناكم} [البقرة: 172]، ثم ذكر الرجل يطيل السفر أشعث أغبر، يمد يديه إلى السماء، يا رب، يا رب، ومطعمه حرام، ومشربه حرام، وملبسه حرام، وغذي بالحرام، فأنى يستجاب لذلك؟ "

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 291)
'' في القنية: لو كان الخبيث نصاباً لا يلزمه الزكاة ؛ لأن الكل واجب التصدق عليه فلا يفيد إيجاب التصدق ببعضه''. اهـ.
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909201402

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے