بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

حج کے پیسے اور ارادہ ہونے کے باوجود حج پر نہ جاسکنے اور انتقال ہوجانے کی صورت میں ورثاء کو کیا کرنا چاہیے؟


سوال

میرے  ماموں  کے  پاس  اتنے روپے تھے کہ حج پر جاسکیں اور جانے کا ارادہ بھی تھا، لیکن نہ جا سکے اور دنیا سے رخصت ہو گیے اب ہمیں کیا کر نا چاہیے؟

جواب

اگر  آپ کے ماموں نے یہ وصیت کی تھی کہ میرے مرنے کے بعد میرے ترکہ میں سے میری طرف سے کسی  کو حجِ بدل کروادیا جائے اور ترکہ کے تہائی حصہ سے حجِ بدل کروانے کی گنجائش بھی ہو تو ان کے ورثاء پر لازم ہوگا کہ ان کے ترکہ سے کسی کو ان کی طرف سے حجِ بدل کروادیں، لیکن اگر انہوں نے اس کی وصیت نہ کی ہو یا ترکہ کے تہائی حصہ میں سے حج بدل کروانے کا گنجائش نہ بنتی ہو تو پھر ورثاء پر حجِ بدل کرانا لازم تو نہیں ہے، لیکن اگر ورثاء اپنی مرضی و خوشی سے ان کی اس کوتاہی  کی  تلافی کی نیت سے کسی کو ان کی طرف سے حجِ بدل کرواکر ان کی مغفرت کے  لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کریں تو یہ ورثاء کے لیے بڑی سعادت کی بات ہوگی۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012201646

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے