بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 22 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

حج کی رقم جمع ہونے کی صورت میں پہلے خود حج کرنا چاہیے یا والدین کو حج کروانا چاہیے؟


سوال

میرے پاس حج کے لیے پیسے ہیں اور میں حج کرنا چاہتا ہوں، لیکن میرے والدین نے حج نہیں کیا ہوا ہے، تو کیا پہلے ان کو حج کرانا بہتر ہوگا یا میں پہلے خود حج کرسکتا ہوں؟

جواب

آپ کے پاس حج کے پیسے اور استطاعت ہونے کی وجہ سے آپ پر حج فرض ہوچکا ہے، اس لیے آپ پر لازم ہے کہ آپ پہلے خود حج کر کے اپنے فرض کی ادائیگی کریں، چاہے والدیں نے حج نہ بھی کیا ہوا ہو، البتہ اپنے حج کرنے کے بعد اگر اللہ پاک مزید رقم کا انتظام کروادیں تو اس رقم سے ضرور اپنے والدین کو بھی حج کروادیں، یہ آپ کے لیے بڑی سعادت کی بات ہوگی۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012201351

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے