بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

حج کب فرض ہوتا ہے؟


سوال

میں نوکری پیشہ ہوں،میں اپنے والد کے ساتھ رہتا ہوں، میرا اپنا گھر نہیں ہے،میرے پاس ایک پلاٹ ہے جس کی  مالیت ڈیڑھ لاکھ ہے، میں نے کاروبارمیں تین لاکھ لگائے ہیں، کیا میرے اوپر حج فرض ہے؟

جواب

حج اس عاقل بالغ مسلمان پر فرض ہوتاہے جس  کے پاس ضروریاتِ زندگی کے پورا کر لینے، نیز اہل وعیال کے واجبی خرچے پورے کرنے کے بعد اس قدر زائد رقم ہو جس سے حج کےضروری اخراجات (وہاں کے قیام اور کھانے وغیرہ) اور  آنے جانے کا خرچ پورا ہوسکتا ہو۔لہذا اگرموجودہ رقم سے آپ کے اہل وعیال کا خرچ پوراہوتاہواور حج کے اخراجات بھی مکمل ہوسکتے ہوں تو حج فرض ہوگا ورنہ نہیں۔ "ہدایہ" میں ہے:

'' الحج واجب علی الأحرار البالغین العقلاء الأصحاء إذا قدروا علی الزاد والراحلة فاضلاً عن المسکن، وما لا بد منه، وعن نفقة عیاله إلی حین عوده، وکان الطریق آمناً ووصفه الوجوب'' ۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909200605

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے