بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

حج تمتع میں طواف زیارت سے پہلے سعی کرنے کا حکم


سوال

ہم(میں اور میرے شوہر) 5 سال پہلے حج پر گئے تھے، تب گھر سے نکلتے وقت حجِ تمتع کی نیت تھی ، مکہ مکرمہ پہنچ کر عمرہ کر کے احرام کھول دیا ۔ اس کے بعد جب ہم مدینہ میں تھے اور وہاں سے واپس آ رہے تھے تو حج میں صرف 2 دن رہتے تھے تب ہمیں وہاں کسی نے یہ مشورہ دیا  کہ " آپ علیہ السلام نے مدینہ منورہ سے نکلتے وقت احرام باندھا تھا اور اس کی بہت فضیلت ہے تو آپ بھی یہی کرلیں" ۔تب ہم نے بھی احرام باندھ لیا اور مکہ آ گئے، لیکن ہم نے حجِ قران کی نیت نہیں کی تھی ، جب یہاں آئے تب کسی نے یہ کہا کہ اب آپ کو تو پہلے سعی کرنی ہے، تب ہم نے وہاں کسی مفتی صاحب سے پوچھ کر 6 یا 7 ذی الحج کو ہی حج کی  سعی کر لی اور نفلی طواف بھی کیے ،اس کے بعد حج کے سارے ارکان ادا کیے اور طوافِ زیارت کے بعد سعی نہیں کی ۔

اب 5 سال بعد  ہم ابھی حج پر آئے  تو یہ مسئلہ سنا کہ جب  گھر سے نکلتے وقت حجِ تمتع کی نیت تھی تو پھر حجِ قران نہیں کر سکتے ۔ اگر ایسا کیا تو ایک دم دینا ہوگا ۔ اب آپ مجھے یہ بتائیں کہ جو صورت اوپر بیان کی گئی ہےاس میں کیا ہمیں دم دینا ہوگا ۔ واضح رہے کہ ہم نے حجِ قران کی نیت نہیں کی تھی، لیکن ہم نے سعی پہلے کر لی جو کہ حجِ قران میں کی جاتی ہے۔ 

جواب

آپ نے جو حج کیا ہے وہ حج تمتع ہی ہے، سعی پہلے کرنے سے حجِ تمتع، حجِ قران نہیں بنتا، البتہ سعی کے صحیح اور معتبر ہونے کے لیے  یہ شرط  ہے کہ  حج کا احرام باندھنے کے بعد طواف کرکے سعی  کی جائے، اگر کوئی شخص طواف سے پہلے سعی کرلے تو وہ سعی معتبر نہیں ہوتی، طواف کے بعد دوبارہ سعی کرنا واجب ہوتی ہے، لہٰذا اگر مدینہ منورہ سے حج کا احرام باندھ کر مکہ مکرمہ آنے کے بعد سعی کرنے سے پہلے آپ نے کوئی نفلی طواف کرلیا ہو  تب تو آپ کی سعی درست ہوگئی تھی اور طوافِ زیارت کے بعد آپ پر دوبارہ سعی کرنا واجب نہیں تھی؛ اس لیے اس صورت میں طوافِ زیارت کے بعد سعی نہ کرنے کی وجہ سے آپ پر کوئی دم لازم نہیں ہوا، لیکن اگر حج کا احرام باندھنے کے بعد کوئی نفلی طواف کیے بغیر آپ نے سعی کی تھی تو اس سعی کا کوئی اعتبار نہیں، چناں چہ آپ پر طوافِ زیارت کے بعد سعی کرنا لازم تھی، اور اس صورت میں طواف زیارت کے بعد سعی (جو کہ واجب ہے) نہ کرنے کی وجہ سے آپ پر حدودِ حرم میں ایک دم دینا لازم ہو چکا ہے ، البتہ اگر آپ کا دوبارہ حج یا عمرہ کے لیے جانا ہوا تو وہاں پر احرام سے حلال ہونے کے بعد الگ سے ایک سعی کرنے سے دم ساقط ہو سکتا ہے، لیکن زیادہ افضل یہ ہے کہ دم دیا جائے ؛کیوں کہ اس میں فقراء کا فائدہ ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 500)

"(قوله: إن أراد السعي) أفاد أن العود إلى الحجر إنما يستحب لمن أراد السعي بعده، وإلا فلا، كما في البحر وغيره، وكذا الرمل والاضطباع تابعاً لطواف بعده سعي كما قدمناه، وأشار إلى ما في النهر من أن السعي بعد طواف القدوم رخصة؛ لاشتغاله يوم النحر بطواف الفرض والذبح والرمي، وإلا فالأفضل تأخيره إلى ما بعد طواف الفرض؛ لأنه واجب، فجعله تبعاً للفرض أولى، كذا في التحفة وغيرها اهـ لكن ذكر في اللباب خلافاً في الأفضلية ثم قال: والخلاف في غير القارن، أما القارن فالأفضل له تقديم السعي أو يسن اهـ وأشار أيضاً إلى أن السعي بعد الطواف، فلو عكس أعاد السعي؛ لأنه تبع له، وصرح في المحيط بأن تقديم الطواف شرط لصحة السعي، وبه علم أن تأخير السعي واجب وإلى أنه لا يجب بعده فوراً، والسنة الاتصال به ، بحر، فإن أخر لعذر أو ليستريح من تعبه، فلا بأس وإلا فقد أساء ولا شيء عليه لباب".

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (2/ 357)

"(قوله: ثم اخرج إلى الصفا وقم عليه مستقبل البيت مكبراً مهللاً مصلياً على النبي صلى الله عليه وسلم داعياً ربك بحاجتك)؛ لما ثبت في حديث جابر الطويل، وقد قدمنا أن هذا السعي واجب وليس بركن للحديث : «اسعوا فإن الله كتب عليكم السعي» قاله عليه السلام حين كان يطوف بين الصفا والمروة؛ فإنه ظني وبمثله لا يثبت الركن؛ لأنه إنما يثبت عندنا بدليل مقطوع، فما في الهداية من تأويله بمعنى كتب استحباباً فمناف لمطلوبه؛ لأنه الوجوب، وجميع السبعة الأشواط واجب لا الأكثر فقط، فإنهم قالوا في باب الجنايات: لو ترك أكثر الأشواط لزمه دم، وإن ترك الأقل لزمه صدقة، فدل على وجوب الكل؛ إذ لو كان الواجب الأكثر لم يلزمه في الأقل شيء، أشار بثم إلى تراخي السعي عن الطواف، فلو سعى ثم طاف أعاده؛ لأن السعي تبع، ولا يجوز تقدم التبع على الأصل، كذا ذكر الولوالجي، وصرح في المحيط بأن تقديم الطواف شرط لصحة السعي، وبهذا علم أن تأخير السعي عن الطواف واجب، وإلى أن السعي لا يجب بعد الطواف فوراً، بل لو أتى به بعد زمان ولو طويلاً لا شيء عليه، والسنة الاتصال به كالطهارة، فصح سعي الحائض والجنب، وكذا الصعود عليه مع ما بعده سنة، حتى يكره أن لا يصعد عليهما، كما في المحيط"۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 553)

"(أو) ترك (السعي) أو أكثره"۔

غنیۃ الناسک (۲۷۸ )

"ولو ترک السعی و رجع الی اھلہ... فاراد العود یعود باحرام جدید، فان کان بعمرۃ فیأتی اولا بافعال العمرۃ، ثم یسعی۔۔۔۔واذا اعادہ سقط الدم، قال فی الاصل: والدم احب الی من الرجوع؛ لان فیہ منفعۃ للقفراء، والنقصان لیس بفاحش"۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909201681

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے