بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

حجِ اکبر کی حیثیت یا جمعہ کے دن عرفہ آ جائے تو کیا اس کی کوئی فضیلت ہے؟


سوال

 جمعہ کے دن حج کی کوئی خاص فضیلت ہے؟  کچھ اس کو ’’حجِ اکبر‘‘  کہتے ہیں،  کچھ کہتے ہیں کہ  اس کا ثواب سات حج کےبرابر ہے۔  احادیث کی روشنی میں ایسی کوئی خاص فضیلت ہے؟ 

جواب

جمعے کے دن حج ہو یعنی جمعے کے دن یومِ عرفہ ہو  تو اس کی خاص فضیلت ہے یا نہیں، اس کے جواب سے پہلے یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ عوام میں یہ بات جو مشہور ہے کہ جمعے کے دن یومِ عرفہ ہو تو اس حج کو ’’حجِ اکبر‘‘ کہتے ہیں، شریعت میں اس کی کوئی اصل نہیں ہے، شرعاً عمرہ کو ’’حجِ اصغر‘‘ کہاجاتاہے، اور اس اعتبار سے ہر حج کو ’’حجِ اکبر‘‘ کہا جاتاہے۔ 

رہی بات جمعے کے دن حج کی خاص فضیلت کی تو اس حوالے سے ’’جامع الاصول‘‘  میں علامہ ابن اثیر رحمہ اللہ نے ایک روایت ’’رزین‘‘  کے حوالہ سے ذکر کی ہے،  جس میں اس بات کا ذکر ہے کہ جمعہ کا حج فضیلت کے اعتبار سے ستر حج کے برابر ہے،  چنانچہ ’’جامع الاصول‘‘  میں ہے:

جامع الأصول في أحاديث الرسول (9/ 264):
" طلحة بن عبيد الله بن كريز: أن رسولَ الله صلى الله عليه وسلم قال: «أفضلُ الأيام يومُ عرفة وافقَ يوم جُمُعَة، و هو أفضل من سبعين حَجَّةً في غير يومِ جُمُعة، وأفْضَلُ الدُّعاءِ: دُعَاءُ يومِ عَرَفَةَ، وأفضلَ ما قلتُ أنا والنّبيُّون من قبلي: لا إله إلا الله وحدَه لا شَريكَ له». أخرج «الموطأ» من قوله: «أفضل»، والحديث بطوله ذكره رزين".

اور رزین نے یہ روایت ’’موطا‘‘  کے حوالہ سے نقل کی ہے، لیکن ’’رزین‘‘  کے ذکر کردہ یہ الفاظ ’’موطا‘‘  کے مشہور نسخؤں میں موجود نہیں ہیں، جیسا کہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس بات کی صراحت کی ہے:

فتح الباري لابن حجر (8/ 271):
" وأما ما ذكره رزين في جامعه مرفوعاً: خير يوم طلعت فيه الشمس يوم عرفة، وافق يوم الجمعة، وهو أفضل من سبعين حجةً في غيرها، فهو حديث لاأعرف حاله؛ لأنه لم يذكر صحابيه ولا من أخرجه، بل أدرجه في حديث "الموطأ" الذي ذكره مرسلاً عن طلحة بن عبد الله بن كريز، وليست الزيادة المذكورة في شيء من الموطآت، فإن كان له أصل احتمل أن يراد بالسبعين التحديد أو المبالغة، وعلى كل منهما فثبتت المزية بذلك، والله أعلم".

یہ بات ذکر کرنے کے بعد حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے یہ بھی لکھا کہ  اگر اس کی کوئی اصل ہو  تو یہ احتمال ہےکہ ”سبعون“سے مراد تحدید ہو(یعنی متعینہ مقدار70 مرادہو)یا پھر اس سے مبالغہ مقصودہو(جیسا کہ  اصطلاحِ عرب میں سبعہ  یا سبعون کا  لفظ بیانِ تکثیر کے لیے استعمال ہوتا ہے) ان دونوں میں سے جوبھی مراد ہوبہرحال اس سے فضیلت ثابت ہوتی ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 621):
"لوقفة الجمعة مزية سبعين حجةً. ويغفر فيها لكل فرد بلا واسطة".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 621):
"نعم ذكر الغزالي في الإحياء: قال بعض السلف: إذا وافق يوم عرفة يوم جمعة غفر لكل أهل عرفة؛ وهو أفضل يوم في الدنيا".

نیز جمعہ کا دن بھی اپنی ایک فضیلت رکھتا ہے جس کی وجہ سے اس کی امتیازی شان ہے اور نصوص سے یہ بات ثابت ہے کہ  یوم الجمعہ تمام دنوں میں سب سے افضل دن ہے؛ لہذا جب جمعہ اور عرفہ ایک دن جمع ہو جائیں تو ایسا دن دیگر ایام سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144010200408

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے