بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جمادى الاخرى 1441ھ- 29 جنوری 2020 ء

دارالافتاء

 

حجاج بن یوسف سے شادی سے پہلے جو دعا حضرت عبداللہ بن جعفر نے اپنی بیٹی کو سکھائی


سوال

وہ دعا بتا دیں جو حضرت عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ نے اپنی بیٹی کو سکھلائی تھی  حجاج بن یوسف سے شادی سے پہلے۔

جواب

وہ دعا یہ ہے : "لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللهُ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ، سُبْحَانَ اللهِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظيمِ، الْحَمْدُ للهِ رَبِّ الْعَالَمينَ".

 

جس کا قصہ یہ ہے کہ حجاج بن یوسف نے حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے ان کی صاحب زادی کا رشتہ مانگا، آپ نے حجاج سے اس کا نکاح کروادیا اور اپنی صاحب زادی سے فرمایا: جب وہ تمہارے پاس آئے تو یہ کلمات: "لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللهُ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ، سُبْحَانَ اللهِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظيمِ، الْحَمْدُ للهِ رَبِّ الْعَالَمينَ" پڑھنا.  اور یہ بھی بتایا کہ رسول اللہ ﷺ کو جب بھی کوئی اہم معاملہ گھبراہٹ میں ڈالتا تو آپ ﷺ یہ دعا پڑھتے تھے.  راوی کہتے ہیں کہ (چناں چہ ان کی صاحب زادی نے یہ دعا پڑھی تو) حجاج بن یوسف ان تک نہ پہنچ سکا (یعنی تعلق قائم نہ کرسکا)۔ 

إتحاف المهرة لابن حجر (6 / 562):
"حَدِيثٌ (حم) : أَنَّهُ زَوَّجَ ابْنَتَهُ مِنَ الْحَجَّاجِ بْنِ يُوسُفَ، فَقَالَ لَهَا: إِذَا دَخَلَ بِكِ فَقُولِي: "لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ ... الْحَدِيثَ. قَالَ أَحْمَدُ: ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْهُ، بِهِ".

البداية والنهاية ط هجر (12 / 517):
"وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ أَنَّهُ زَوَّجَ ابْنَتَهُ مِنَ الْحَجَّاجِ بْنِ يُوسُفَ، فَقَالَ لَهَا: إِذَا دَخَلَ بِكِ فَقُولِي: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ، سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ. وَزَعَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا حَزَبَهُ أَمْرٌ قَالَ هَذَا. قَالَ حَمَّادٌ: فَظَنَنْتُ أَنَّهُ قَالَ: فَلَمْ يَصِلْ إِلَيْهَا.
قَالَ الشَّافِعِيُّ: لَمَّا تَزَوَّجَ الْحَجَّاجُ بِنْتَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ لِعَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ: أَتُمَكِّنُهُ مِنْ ذَلِكَ؟ فَقَالَ: وَمَا بَأْسٌ بِذَلِكَ؟ قَالَ: أَشَدُّ الْبَأْسِ وَاللَّهِ. قَالَ: كَيْفَ؟ قَالَ: وَاللَّهِ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ لَقَدْ ذَهَبَ مَا فِي صَدْرِي عَلَى آلِ الزُّبَيْرِ مُنْذُ تَزَوَّجْتُ رَمْلَةَ بِنْتَ الزُّبَيْرِ. قَالَ: فَكَأَنَّهُ كَانَ نَائِمًا فَأَيْقَظَهُ، فَكَتَبَ إِلَى الْحَجَّاجِ يَعْزِمُ عَلَيْهِ فِي طَلَاقِهَا فَطَلَّقَهَا".
 
كنز العمال (2 / 659):
"عن أبي رافع: أن عبد الله بن جعفر زوج ابنته من الحجاج بن يوسف، فقال لها إذا دخل بك فقولي: "لا إله إلا الله الحليم الكريم، سبحان الله رب العرش العظيم، والحمد لله رب العالمين"، وزعم أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان إذا حزبه أمر، قال هذا. قال: فلم يصل إليها".
 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144001200686

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے