بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 ذو القعدة 1441ھ- 11 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

حالتِ جنابت میں غسل کے لیے پانی میں ہاتھ ڈالنا


سوال

حالتِ جنابت کا غسل یا وضو کرنے کے لیے بالٹی میں ہاتھ ڈال کر غسل اور وضو کرنا درست ہے یا نہیں؟

جواب

ہاتھ پر اگر کوئی نجاست نہ لگی ہو تو جنابت کی حالت میں غسل یا وضو کرنے کے لیے بالٹی میں ہاتھ ڈال کر پانی نکالنا درست ہے۔ تاہم اگر چھوٹا برتن موجود ہو تو اسی سے پانی لے کر وضو یا غسل کرنا چاہیے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 200)

''بأن يغسل بعض أعضائه أو يدخل يده أو رجله في جب لغير اغتراف ونحوه، فإنه يصير مستعملاً؛ لسقوط الفرض اتفاقاً۔

 (قوله: لغير اغتراف) بل للتبرد أو غسل يده من طين أو عجين، فلو قصد الاغتراف ونحوه كاستخراج كوز لم يصر مستعملاً للضرورة''.

الفتاوى الهندية (1/ 22)

''إذا أدخل المحدث أو الجنب أو الحائض التي طهرت يده في الماء للاغتراف لا يصير مستعملاً للضرورة. كذا في التبيين۔ وكذا إذا وقع الكوز في الحب فأدخل يده فيه إلى المرفق لإخراج الكوز لا يصير مستعملاً، بخلاف ما إذا أدخل يده في الإناء أو رجله للتبرد فإنه يصير مستعملاً لعدم الضرورة. هكذا في الخلاصة''.فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909200983

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں