بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

27 جُمادى الأولى 1441ھ- 23 جنوری 2020 ء

دارالافتاء

 

حافظہ تروایح کی جماعت نہ کرائے تو اپنا قرآن کیسے دہرائے؟


سوال

حافظ لڑکیاں اپنا قرآن پھر کس طرح دہراسکتی ہیں؟

سابقہ سوال: 

کیا دو ، تین حافظ لڑکیاں مل کر کسی گھر میں عورتوں کی تراویح پڑھاسکتی ہیں؟

جواب:

فرض نماز ہو یا نفل، عورت کا عورتوں کے لیے امام بننا مکروہِ تحریمی ہے، خواتین کے لیے یہی حکم ہے کہ وہ تنہا اپنی نماز ادا کریں، تراویح کی جماعت نہ کریں۔

"فعلم أن جماعتهن وحدهن مکروهة". (إعلاء السنن ۴؍۲۲۶)

"عن علي بن أبي طالب رضي اللّٰه عنه أنه قال: لا تؤم المرأة . قلت: رجاله کلهم ثقات". (إعلاء السنن ۴؍۲۲۷ دار الکتب العلمیة بیروت)

فتاوی شامیمیں ہے: " ویکره تحریماً جماعة النساء ولو في التراویح - إلی قوله - فإن فعلن تقف الإمام وسطهن فلو قدمت أثمت". قال الشامي: "أفاد أن الصلاة صحیحة وأنها إذا توسطت لاتزول الکراهة وإنما أرشد و إلی التوسط؛ لأنه أقل کراهة التقدم". (شامي ۲؍۳۰۵)

وفیه أيضاً: "(قوله: ويكره تحريماً) صرح به في الفتح والبحر (قوله: ولو في التراويح) أفاد أن الكراهة في كل ما تشرع فيه جماعة الرجال فرض أو نفل". (1/565) فقط واللہ اعلم

جواب

 تراویح یا کسی بھی نماز میں عورتوں کی تنہا جماعت مکروہ تحریمی ہے؛ لہٰذا عورتوں کو تنہا طور پر جماعت کے ساتھ تراویح نہیں پڑھنی چاہیے،  قرآنِ کریم کو یاد رکھنے کا ذریعہ محض تراویح میں ایک مہینہ سنادینا نہیں ہے، بلکہ دیگر بہت سے طریقے قرآنِ کریم کو یاد رکھنے کے ہوسکتے ہیں، اپنی روزانہ کی نفل وغیرہ نمازوں میں پڑھتی رہے، اسی طرح دوسری عورتوں یا محرم مردوں کو نماز کے علاوہ سناتی رہے، نیز اپنی تراویح کی نماز میں بھی تنہا پڑھتی رہے، اس کے لیے پہلے سے اچھی طرح تیاری کرے، اور نماز کے دوران  اگر غلطی آجائے دو رکعت کے بعد اس کو دیکھ کر اگلی رکعت میں صحیح کردے،  یہی مناسب اور بہتر ہے۔

"عن عائشة أن رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وسلم قال: لاخیر في جماعة النساء إلا في المسجد أو في جنازة قتیل". (رواه أحمد والطبراني في الأوسط) إلا أنه قال: لا خیر في جماعة النساء إلا في مسجد جماعة". (مجمع الزوائد ۲؍۳۳ بیروت)
" فعلم أن جماعتهن وحدهن مکروهة". (إعلاء السنن ۴؍۲۲۶)
"عن علی بن أبي طالب رضي اللّٰه عنه أنه قال: لاتؤم المرأة. قلت: رجاله کلهم ثقات". (إعلاء السنن ۴؍۲۲۷ دار الکتب العلمیۃ بیروت)
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008201285

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے