بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ربیع الثانی 1442ھ- 01 دسمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

حافظات کا عورتوں کو باجماعت تراویح پڑھانا


سوال

کیا دو ، تین حافظ لڑکیاں مل کر کسی گھر میں عورتوں کی تراویح پڑھاسکتی ہیں؟

جواب

فرض نماز ہو یا نفل، عورت کا عورتوں کے لیے امام بننا  مکروہِ تحریمی ہے، خواتین کے لیے یہی حکم ہے کہ وہ تنہا اپنی نماز ادا کریں، تراویح کی جماعت نہ کریں۔

"فعلم أن جماعتهن وحدهن مکروهة". (إعلاء السنن ۴؍۲۲۶)
" عن علي بن أبي طالب رضي اللّٰه عنه أنه قال: لا تؤم المرأة . قلت: رجاله کلهم ثقات". (إعلاء السنن ۴؍۲۲۷ دار الکتب العلمیة بیروت)

فتاوی شامی میں ہے:

" ویکره تحریماً جماعة النساء ولو في التراویح - إلی قوله - فإن فعلن تقف الإمام وسطهن فلو قدمت أثمت".

قال الشامي:

"أفاد أن الصلاة صحیحة وأنها إذا توسطت لاتزول الکراهة وإنما أرشد و إلی التوسط؛ لأنه أقل کراهة التقدم". (شامي  ۲؍۳۰۵)

وفیه أيضاً: "(قوله: ويكره تحريماً) صرح به في الفتح والبحر (قوله: ولو في التراويح) أفاد أن الكراهة في كل ما تشرع فيه جماعة الرجال فرض أو نفل". (1/565) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008201226

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں