بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 14 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

جی پی فنڈ (GP Fund) کی مد میں سرکاری ادارے کی جانب سے ملنے والی اضافی رقم کا حکم


سوال

میری سرکاری ادارے میں نوکری ہوئی ہے، مجھے ان لوگوں نے تنخواہ کے بارے میں یہ بتایا ہے ، کہ آپ کی 33 ہزار بیسک پے ہے ، اور سب فنڈ ملا کر آپ کی  کل تنخواہ 57 ہزار ہے ، لیکن ابھی آپ کو ہر ماہ صرف 52 ہزار ملے گی، لیکن جب آپ ریٹائر ہوں گے تو ہر ماہ میں کٹنے والی تنخواہ جو کہ 5  ہزار ہے ،انٹرسٹ کہ ساتھ آپ کو اکٹھی ملے گی،میرا سوال یہ ہے کہ یہ انٹرسٹ والی تنخواہ جو ہر ماہ کہ ساتھ سود لگ لگ کر بڑھتی جاۓ گی ، کیا یہ جائز ہے ؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں آپ کی تنخواہ سے ماہانہ کٹوتی ہونا اور ریٹائر ہونے کے بعد کٹوتی شدہ تنخواہ مع اضافہ کے ملنا جی پی فنڈ ہے۔ اس کو پراویڈنٹ فنڈ بھی کہا جاتا ہے، سرکاری و نجی اداروں کی طرف سے ملازمین کے لیے پراویڈنٹ فنڈ کی سہولت فراہم کی جاتی ہے اور اس فنڈ میں شمولیت کے لیے  ملازمین اپنی تنخواہ میں سے کچھ فیصد کٹوتی کرواتے ہیں جو کہ ہر ماہ اس فنڈ میں جمع کرلی جاتی ہے اور ریٹائرمنٹ کے وقت کمپنی جمع شدہ رقم اضافہ کے ساتھ ملازم کو دے دیتی ہے، اس کی  مندرجہ ذیل چند صورتیں ہیں:

پراویڈنٹ فنڈ کی رائج صورتیں:

1۔ بعض ادارے اپنے ہر ملازم کو جبراً اس فنڈ کا حصہ بناتے ہیں اور ملازم کو عدمِ شمولیت کا اختیار نہیں دیتے، جس کی وجہ سے ہر ماہ تنخواہ دینے سے پہلے ہی طے شدہ شرح کے مطابق جبری کٹوتی کرلی جاتی ہے اور بقیہ تنخواہ ملازم کو دے دی جاتی ہے۔

2۔ بعض اداروں کی طرف سے ہر ملازم کے لیے اس فنڈ کا حصہ بننا لازمی نہیں ہوتا ، بلکہ وہ اپنے ملازمین کو اختیار دیتے ہیں کہ اپنی مرضی سے جو ملازم اس فنڈ سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے وہ اس فنڈ کا حصہ بن سکتا ہے اور ادارہ ملازمین کی اجازت سے ہر ماہ طے شدہ شرح کے مطابق ان کی تنخواہوں سے کٹوتی کرکے مذکورہ فنڈ میں جمع کرتا رہتاہے۔

3۔ بعض ادارے ہر ملازم کو جبراً اس فنڈ کا حصہ بنانے کے ساتھ ساتھ ملازمین کو اختیار دیتے ہیں کہ اگر کوئی ملازم اس فنڈ میں مقررہ شرح سے زیادہ رقم جمع کرانا چاہے تو کرا سکتا ہے؛ اس قسم کی کٹوتی کو جبری و اختیاری کٹوتی کہا جاتا ہے ۔

مذکورہ صورتوں میں ملنے والے اضافے کا حکم:

 مفتی شفیع صاحب لکھتے ہیں:

’’جبری پراویڈنٹ فنڈ میں ملازم کی تنخواہ سے جو رقم ماہ بماہ کاٹی جاتی ہے اور اس پر ہر ماہ جو اضافہ محکمہ اپنی طرف سے کرتا ہے پھر مجموعہ  پر جو رقم سالانہ بنامِ سود جمع کرتا ہے، شرعاً ان تینوں رقموں کا حکم ایک ہے، اور وہ یہ کہ یہ سب رقمیں در حقیقت تنخواہ ہی کا حصہ ہیں، اگرچہ سود یا کسی اور نام سے دی جائیں، لہٰذا ملازم کو ان کا لینا اور اپنے استعمال میں لانا جائز ہے، ان میں سے کوئی رقم بھی شرعاً سود نہیں،  البتہ پراویڈنٹ فنڈ میں رقم اگر اپنے اختیار سے کٹوائی جائے تو اس پر جو رقم محکمہ بنامِ سود دے گا، اس سے اجتناب کیا جائے، کیوں کہ اس میں تشبہ بالربا بھی ہے اور سود خوری کاذریعہ بنالینے کا خطرہ بھی، اس لیے خواہ وصول ہی نہ کریں یا وصول کر کے صدقہ کر دیں‘‘۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008201853

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے