بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 12 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

جو پلاٹ بیچ کر مکان بنانے کی نیت سے خریدے ہوں ان پر زکاۃ کا حکم


سوال

میں نے کچھ پلاٹ قسطوں پر خریدے ہیں؛ تا کہ انہیں بیچ کر مکان بنا سکو ں، کیا مجھے زکاۃ دینی ہوگی؟

جواب

اگر آپ نے مذکورہ پلاٹ اس نیت سے خریدے تھے کہ ان کو بیچ کر نفع کماسکیں اور پھر اصل اور منافع کی رقم ملا کر اس سے مکان بناسکیں تو پہلے سے آپ کے صاحبِ نصاب ہونے کی صورت میں سال مکمل ہونے پر اگر مذکورہ پلاٹ موجود ہوں تو  آپ پر مذکورہ پلاٹوں کی زکاۃ ادا کرنا لازم ہوگی، اور اگر پہلے سے آپ صاحبِ نصاب نہ ہوں تو ان پلاٹوں پرسال گزرنے پر آپ پر ان کی زکاۃ ادا کرنا لازم ہوگی، لیکن زکاۃ والے سال واجب الادا قسطوں کے بقدر رقم کو منہا کرنے کے بعد جو مالیت بنے گی صرف اسی کی زکاۃ ادا کرنا لازم ہوگی۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008201305

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے