بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 ذو الحجة 1441ھ- 10 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

جوانی کی نمازوں کو قضا کرنے کا طریقہ


سوال

جب سے نماز فرض ہوئی ہے مثلاً چودہ یا پندرہ سال کی عمر میں اور ہم نے اٹھار ہ یا انیس سال کی عمر سے نماز کی پابندی شروع کی ہو اور ہمیں نماز فرض ہونے کی عمر سے لے کر موجودہ عمر تک کا کچھ اندازا  نہیں ہو کہ کون سی نماز کتنی قضا ہوئی ہے تو کس حساب سے کس طرح ادا کریں؟ اور اگر کوئی دنیا سے رخصت ہو جائے تو ایک نماز کا فدیہ کیا ہے؟

جواب

نماز بالغ ہونے کے بعد فرض ہوجاتی ہے، اگر بلوغت کی کوئی علامت ظاہر نہ ہو تو  قمری حساب سے پندرہ سال عمر ہوجانے کے بعد نماز فرض ہوجاتی ہے۔

قضا نمازیں ادا کرنے  کا طریقہ یہ ہے کہ بالغ ہونے کے بعد سے لے کر اب تک آپ سے  جتنی نمازیں قضا ہو گئی ہیں اُن کاحساب کریں اور اگر متعین طور پر قضاشدہ نمازوں کی تعداد معلوم نہ ہو  تو اندازا لگا کرغالب گمان پر عمل کریں اورجو اندازا اور تخمینہ سامنے آئےاحتیاطاً اس تعداد سے کچھ بڑھا کر اُسے کہیں لکھ کر رکھ لیں، اس کے بعد فوت شدہ نمازیں قضا کرنا شروع کردیں، قضا صرف فرض نمازوں اور وتر کی ہوتی ہے، فجر کی قضا دو رکعت ، ظہر اور عصر کی چار، چار اور مغرب کی تین رکعتیں ہوں گی، عشاء کی نماز قضا کرتے ہوئے چار رکعات  فرض اور تین رکعات وتر کی قضا کرنی ہوں گی۔ 

قضا  نماز یں اگر متعین ہیں تو ان کی نیت  میں ضروری ہے کہ جس نماز کی قضا  پڑھی جا رہی ہے اس کی مکمل تعیین کی جائے، یعنی فلاں دن کی فلاں نماز کی قضا پڑھ رہا ہوں، مثلاً  پچھلے جمعہ کے دن کی فجر کی نماز کی قضا پڑھ رہا ہوں، البتہ اگر متعینہ طور پر قضا نماز کا دن اور وقت معلوم نہ ہو نے کی وجہ سے اس طرح متعین کرنا مشکل ہو تو اس طرح بھی نیت کی جاسکتی ہے کہ مثلاً جتنی فجر کی نمازیں مجھ سے قضا ہوئی ہیں ان میں سے پہلی  فجر کی نماز ادا کر رہا ہوں یا مثلاً جتنی ظہر  کی نمازیں قضا ہوئی ہیں ان میں سے پہلی ظہر  کی نماز ادا کر رہا ہوں، اسی طرح بقیہ قضا نمازوں میں بھی نیت کریں ، پہلی کے بجائے اگر آخری کی نیت کرے تو بھی درست ہے، مثلاًیوں کہے کہ : جو سب سے آخری فجر کی نماز قضا ہوئی ہے وہ ادا کر رہاہوں۔

ایک دن کی تمام فوت شدہ نمازیں یا کئی دن کی فوت شدہ نمازیں ایک وقت میں پڑھ لیں، یہ درست ہے، نیز  فوت شدہ نمازوں کی ادائیگی کی ایک  آسان صورت یہ بھی ہے کہ ہر وقتی فرض نمازکے ساتھ اس وقت کی قضا نمازوں میں سے ایک پڑھ لیاکریں، (مثلاً: فجر کی وقتی فرض نماز ادا کرنے کے ساتھ قضا نمازوں میں سے فجر کی نماز بھی پڑھ لیں، ظہر کی وقتی نماز کے ساتھ ظہر کی ایک قضا نماز پڑھ لیا کریں)،  جتنے برس یاجتنے مہینوں کی نمازیں قضاہوئی ہیں اتنے سال یامہینوں تک اداکرتے رہیں، جتنی قضا نمازیں پڑھتے جائیں اُنہیں لکھے ہوئے ریکارڈ میں سے کاٹتے جائیں، اِس سے ان شاء اللہ مہینہ میں ایک مہینہ کی اور سال میں ایک سال کی قضا نمازوں کی ادائیگی بڑی آسانی کے ساتھ  ہوجائے گی۔

اور اگر کسی شخص کا انتقا ل ہو جائے،اس کے ذمہ کوئی نماز باقی ہو  اور اس نے فدیہ کی وصیت کی ہو تو وارث کے ذمہ لازم ہے کہ وہ اس کی متروکہ جائیداد کی ایک تہائی میں سے نافذ کرے، اگر اس نے فدیہ کی وصیت نہ کی ہو تو وارث کے ذمہ لازم نہیں، تاہم اگر ورثاء اپنی رضامندی سے اس وصیت کو نافذ کریں تو اللہ تعالی سے امید ہے کہ میت کی جانب سے قبول فرمائیں گے۔

 ایک نماز کا فدیہ ایک صدقہ فطر کے برابر ہے اور وتر کو  مستقل نماز  شمار کیا جائے گا، یعنی ایک دن کی کل نمازیں چھ شمار کی جائیں گی اور ایک دن کی نمازوں کا فدیہ چھ صدقہ فطر کے برابر ادا کرنا ہو گا۔ فقط و اللہ اعلم


فتوی نمبر : 144104200720

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں