بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 ذو القعدة 1441ھ- 04 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

جن الفاظ میں طلاق کا احتمال نہ ہو ان سے طلاق کی نیت


سوال

اگر کوئی شخص دل میں بیوی کو طلاق دے رہا ہو  اور زبان سے ’’اللّٰہ اکبر‘‘  نکلے تو کیا طلاق ہو جاتی ہے؟ اور کیا ’’اللّٰہ اکبر‘‘  سے طلاق مراد  لی جا سکتی ہے؟

جواب

کسی بھی لفظ سے طلاق کی نیت کرنے سے طلاق واقع نہیں ہوتی ہے، بلکہ اس کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ لفظ طلاق کی صلاحیت رکھتا ہو، اور اس میں طلاق کا احتمال موجود ہو۔ ایسا لفظ جو طلاق کا احتمال نہیں رکھتا اس سے اگر طلاق دینے کی نیت کی بھی تو  کوئی طلاق واقع نہیں ہوتی۔  لہٰذا مذکورہ بالا صورت میں لفظ ’’اللہ اکبر‘‘  سے طلاق کی نیت کرنے سے طلاق واقع نہیں ہوگی۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144102200100

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں