بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 ربیع الاول 1442ھ- 24 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

جنگ بدر کے قیدیوں کا فدیہ


سوال

کیا جنگِ بدر کے قیدیوں کو صرف فدیہ لے  کر چھوڑ دیا گیا تھا یا جن کے پاس کچھ نہ تھا تو ان سے مسلمانوں کو کچھ پڑھانے یا سکھانے کا مطالبہ کیا گیا تھا?

جواب

غزوہ  بدر کے قیدیوں میں سے جن کے پاس فدیہ کی رقم موجود تھی ان کو  صرف فدیہ لے کر چھوڑ دیا گیا تھا اور جن کے پاسس کچھ نہ تھا تو ان سے مسلمانوں کو کچھ لکھائی سکھانے  پر ان کو چھوڑ دیا گیا تھا۔

مسند أحمد ط الرسالة (4/ 92) :
"2216 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ  : حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " كَانَ نَاسٌ مِنَ الْأَسْرَى يَوْمَ بَدْرٍ لَمْ يَكُنْ لَهُمْ فِدَاءٌ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِدَاءَهُمْ أَنْ يُعَلِّمُوا أَوْلَادَ الْأَنْصَارِ الْكِتَابَةَ "،  قَالَ: فَجَاءَ غُلَامٌ يَوْمًا يَبْكِي إِلَى أَبِيهِ، فَقَالَ: مَا شَأْنُكَ؟ قَالَ: ضَرَبَنِي مُعَلِّمِي، قَالَ: الْخَبِيثُ، يَطْلُبُ بِذَحْلِ بَدْرٍ، وَاللهِ لَا تَأْتِيهِ أَبَدًا".
وأخرجه البيهقي 6/322 من طريق علي بن عاصم وخالد بن عبد الله، كلاهما عن داود بن أبي هند، بهذا الإسناد.
"وروى ابن سعد في "الطبقات" 2/22 من طرق عن عامر الشعبي قال: كان فداء أسارى بدر أربعة آلاف إلى ما دون ذلك، فمن لم يكن عنده شيء أمر أن يعلم غلمان الأنصار الكتابة. وهذا مرسل. وانظر "أقضية الرسول صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لابن الطلاع ص 199-200".
والذحْل: الثأر أو العداوة والحقد، والجمع: أذحال وذُحول".
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144001200145

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں