بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ذو القعدة 1441ھ- 02 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

جنابت کی حالت میں پسینہ کپڑے پر لگ جائے تواس کا حکم


سوال

 غسلِ جنابت فرض ہونے کی صورت میں جو کپڑے بدن پر پہنے تھے، مثلاً: بنیان وغیرہ تو ناپاکی کی حالت میں اس پر بدن سے خارج ہونے والا پسینہ شامل ہوگیا۔ تو اب اس کپڑے یا بنیان سے ساتھ نماز پڑھ سکتے ہیں یا غسل کے بعد لازمی اسے تبدیل کرنا ہوگا؟ اس سے غسل کے بعد  طہارت پر کوئی اثر پڑےگا؟

جواب

جنابت نجاستِ حکمی ہے جس کی وجہ سے جنبی کا ظاہری جسم ناپاک نہیں ہوتا اور نہ ہی اس حالت میں جسم سے نکلنے والا پسینہ ناپاک ہوتا ہے ، لہٰذا اگر جسم یا کپڑے پر کوئی ظاہری نجاست نہ لگی ہو اور اس حالت میں پسینہ آئے اور کپڑے کو لگ جائے تو اس سے کپڑا ناپاک نہیں ہوگا اور ان کپڑوں میں نماز ہوجائے گی، غسل کے بعد مذکورہ کپڑے تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں ہے، اس سے طہارت پرکوئی اثر نہیں پڑے گا۔

"صحیح البخاری" میں ہے:

''عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: لقيني رسول الله صلي الله عليه وسلم و أنا جنب، فأخذ بيدي، فمشيت معه حتي قعد، فانسللت فأتيت الرحل، فاغتسلت، ثم جئت و هو قاعد، فقال: أين كنت يا أيا هريرة؟ فقلت له، فقال: سبحان الله! يا أبا هريرة! إن المؤمن لاينجس''. (كتاب الطهارة، باب الجنب يخرج و يمشي في السوق و غيره، ط: قديمي)

ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مجھ سے ملے اس حال میں کہ میں جنبی تھا، آپ ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑا، میں آپ ﷺ کے ساتھ چلا، یہاں تک کہ آپ ﷺ تشریف فرماہوئے، میں چپکے سے وہاں سے نکلا اور اپنی رہائش پر آکر غسل کیا، پھر میں آیا تو آپ ﷺ تشریف فرماتھے، آپ ﷺ نے فرمایا: اے ابوہریرہ کہاں تھے؟ میں نے وجہ بتادی، آپ ﷺ نے فرمایا: "سبحان الله"! مؤمن کا (ظاہری) جسم ناپاک نہیں ہوتا۔

" عن عائشة رضي الله عنها قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يغتسل من الجنابة، ثم يستدفئ بي قبل أن أغتسل. رواه ابن ماجه، وروى الترمذي نحوه".

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنابت کا غسل فرماتے، پھر میرے غسل جنابت سے پہلے مجھ سے گرمائش حاصل کرتے تھے۔  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909201704

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں