بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ربیع الثانی 1441ھ- 08 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

جمعہ کے خطبہ میں دعا کے لیے ہاتھ اٹھانے اور لائیو بیانات سننے کا حکم


سوال

1- یہاں UAE میں جمعہ کے خطبہ کے اخیر میں دعا ہوتی ہے، کیا ہمیں اس میں ہاتھ اٹھا کر آمین کہنی چاہیے؟

2- اسی طرح مرکزی مسجد میں وعظ ہوتاہے اور وہ وعظ پورے شہر میں لائیو سنا جاتاہے، اس کے اخیر میں بھی دعا ہوتی ہے، کیااس میں بھی ہاتھ اٹھانے چاہییں؟

جواب

1- جمعہ کے عربی خطبہ  میں آنے والی دعاؤں پر ہاتھ اٹھائے بغیر  دل ہی دل میں ’’آمین‘‘  کہنا چاہیے، زبان سے آمین  کہنا درست نہیں ہے،  اور اسی طرح  دو خطبوں کے درمیان بھی زبان سے دعا  کرنا  اور ہاتھ  اٹھا کر  دعا کرنا درست نہیں ہے،  بلکہ دو خطبوں کے درمیان بھی  دل ہی دل میں دعا کرلی جائے۔

2- جان دار کی تصاویر اور ویڈیو دکھانے، یا پروگرام کی کوریج کے لیے اسکرین لگانا جس میں جان دار کی تصاویر  ہوں  شرعاًناجائز ہے۔لہذا اس طرح شہر میں لائیو ویڈیو پروگرام کا دیکھناہی  درست نہ ہوگا۔ البتہ اگر وعظ ریڈیو کے ذریعے نشر کیا جارہاہو تو  اسے سننا اور اس کے آخر میں ہونے والی دعا پر زبان سے آمین کہنا درست ہے، ہاتھ اٹھانے کی حاجت نہیں ہے۔ یہ حکم اس وقت ہے کہ جب کہ خود جمعہ کی ادائیگی کے لیے کسی مسجد میں جاکر براہِ راست امام کا وعظ سنا جائے، اور ریڈیو پر مرکزی جامع مسجد کا وعظ اضافی طور پر سنا جارہاہو، بصورتِ دیگر (یعنی خود مسجد میں جاکر وعظ نہ سناجائے بلکہ مرکزی مسجد کے وعظ کو ریڈیو وغیرہ کے ذریعے سننے پر ہی اکتفا کیا جائے تو یہ درست نہیں ہے۔

بہر حال لوگوں کو چاہیے کہ اپنی اصلاح اور دینی تعلیمات سے آگاہی کے لیے مساجد میں  ہی بیانات اور اصلاحی پروگراموں میں شرکت کریں اور جمعہ کے وعظ کے علاوہ مسجد میں اس طرح کے اجتماعات کے اخیر میں دعا ہوتو اس میں ہاتھ اٹھانا درست اور جائز ہوگا اسی طرح زبان سے آمین بھی کہنا چاہیے۔

حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح  (ص: 514):

"وما يفعله المؤذنون حال الخطبة من الصلاة على النبي صلى الله عليه وسلم والترضي عن الصحابة والدعاء للسلطان بالنصر ينبغي أن يكون مكروهاً".

"وينبغي أن لايجيب بلسانه اتفاقاً في الأذان بين يدي الخطيب". ( شامی ۔1/ 399)  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144103200090

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے