بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 شعبان 1441ھ- 31 مارچ 2020 ء

دارالافتاء

 

جمعہ کی نماز کے بعد سنتِ مؤکدہ چار ہیں یا چھ ؟ اور پہلے چار رکعت پڑھی جائیں یا دو رکعت؟


سوال

نمازِ جمعہ کے بعد جو چھ رکعات سنت ہیں اس میں سنتِ مؤکدہ کون سی  ہیں اور غیر مؤکدہ کون سی ہیں؟ اور ہم جو پہلے چار رکعات اور بعد میں دو رکعات پڑھتے ہیں اس پر صریح نص چاہیے۔

جواب

جمعہ کی نماز میں کل بارہ رکعتیں ہیں، چار سنتِ مؤکدہ فرض سے پہلے، دو رکعت فرض، چار رکعت سنتِ مؤکدہ فرض کے بعد اور  اس کے بعد مزید دو رکعت ۔

جمعہ کے بعد کی سنتوں میں راجح قول یہ ہے کہ چار رکعت سنتِ مؤکدہ ہیں،اور دو سنتِ غیر موکدہ ہیں، البتہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک چار رکعت اور دو رکعت دونوں سنتِ مؤکدہ ہیں۔

امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے آپ ﷺ کے قول اور عمل دونوں کو جمع فرمایا کہ آپ نے جمعہ کے بعد چار رکعت پڑھنے کا حکم دیا اور  آپ سے جمعہ کی نماز کے بعد  دو رکعت سنتیں ادا کرنا منقول ہے۔ یہی مسلک حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ہے۔ 

راجح قول کی وجہ یہ ہے کہ  آپ ﷺ کا ارشاد ہے کہ جو تم میں جمعہ کے بعد سنتیں پڑھے تو وہ چار رکعت ادا کرے، اور خود آپ ﷺ کا جو اس کے علاوہ دو رکعت ادا کرنا ثابت ہے  تو اس سے  مواظبت معلوم نہیں ہوتی۔ اور چار رکعت کے بعد جو شخص جتنی چاہے نمازیں ادا کرے اس سے منع نہیں ہے، البتہ اس کوسنتِ مؤکدہ نہیں کہا جاسکتا ہے، اور یہ مسلک حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کاہے۔

نیز چار رکعت اور دو رکعت پڑھنے کی ترتیب میں راجح یہ ہے پہلے چار رکعت سنت ادا کرے اور اس کے بعد  دو رکعت ادا کرے، تاکہ ایک نماز کے بعد اسی جیسی دوسری نماز پڑھنےوالا نہ ہوجائے ، اس کی ممانعت حدیث میں آئی ہے، یہ حضرت عمر اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے منقول ہے۔ملاحظہ ہو:

شرح معاني الآثار (1 / 337):
"عن علي، رضي الله عنه أنه قال: «من كان مصليًا بعد الجمعة فليصل ستًا». 

1979 - حدثنا يونس، قال: ثنا سفيان، عن عطاء بن السائب، عن أبي عبد الرحمن، قال: «علّم ابن مسعود رضي الله عنه الناس أن يصلوا بعد الجمعة أربعًا، فلما جاء علي بن أبي طالب رضي الله عنه علّمهم أن يصلوا ستًّا» ... عن أبي عبد الرحمن السلمي، قال: «قدم علينا عبد الله فكان يصلي بعد الجمعة أربعًا فقدم بعده علي رضي الله عنه فكان إذا صلى الجمعة صلى بعدها ركعتين وأربعًا، فأعجبنا فعل علي رضي الله عنه فاخترناه». فثبت بما ذكرنا أن التطوع الذي لاينبغي تركه بعد الجمعة ست، وهو قول أبي يوسف رحمه الله إلا أنه قال: أحب إلي أن يبدأ بالأربع ثم يثنى بالركعتين؛ لأنه هو أبعد من أن يكون قد صلى بعد الجمعة مثلها على ما قد نهي عنه ...  عن خرشة بن الحر: «أن عمر رضي الله عنه كان يكره أن يصلي بعد صلاة الجمعة مثلها». قال أبو جعفر: فلذلك استحب أبو يوسف رحمه الله أن يقدم الأربع قبل الركعتين؛ لأنهن لسن مثل الركعتين فكره أن يقدم الركعتان؛ لأنهما مثل الجمعة. وأما أبو حنيفة رحمه الله، فكان يذهب في ذلك إلى القول الذي بدأنا بذكره في أول هذا الباب".

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (1/ 285):

"وأما السنة قبل الجمعة وبعدها فقد ذكر في الأصل: وأربع قبل الجمعة، وأربع بعدها، وكذا ذكر الكرخي، وذكر الطحاوي عن أبي يوسف أنه قال: يصلي بعدها ستاً، وقيل: هو مذهب علي - رضي الله عنه -. وما ذكرنا أنه كان يصلي أربعاً مذهب ابن مسعود، وذكر محمد في كتاب الصوم أن المعتكف يمكث في المسجد الجامع مقدار ما يصلي أربع ركعات، أو ست ركعات أما الأربع قبل الجمعة؛ فلما روي عن ابن عمر - رضي الله عنه - «أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يتطوع قبل الجمعة بأربع ركعات»؛ ولأن الجمعة نظير الظهر، ثم التطوع قبل الظهر أربع ركعات كذا قبلها.

وأما بعد الجمعة فوجه قول أبي يوسف إن فيما قلنا جمعًا بين قول النبي صلى الله عليه وسلم وبين فعله؛ فإنه روي «أنه أمر بالأربع بعد الجمعة»، وروي أنه «صلى ركعتين بعد الجمعة»، فجمعنا بين قوله وفعله، قال أبو يوسف: ينبغي أن يصلي أربعاً، ثم ركعتين كذا روي عن علي - رضي الله عنه - كي لايصير متطوعاً بعد صلاة الفرض بمثلها، وجه ظاهر الرواية ما روي عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: «من كان مصلياً بعد الجمعة فليصل أربعاً». وما روي من فعله صلى الله عليه وسلم فليس فيه ما يدل على المواظبة، ونحن لانمنع من يصلي بعدها كم شاء، غير أنا نقول: السنة بعدها أربع ركعات لا غير؛ لما روينا". 

نیز جب جمعے کے بعد چار رکعات کا سنتِ مؤکدہ ہونا راجح ہوا، اور دو رکعت کا غیر مؤکدہ ہونا تو قیاسی طور پر بھی یہی افضل ہونا چاہیے کہ فرض کے بعد پہلے سنتِ مؤکدہ ادا کی جائیں، پھر مستحبات و نوافل اداکیے جائیں۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144104200541

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے