بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شوال 1441ھ- 02 جون 2020 ء

دارالافتاء

 

جمعہ کی نماز میں جہر کی وجہ اور جمعہ کی نماز کے بعدظہر کے چار فرض ادا نہ کرنے کی وجہ


سوال

1۔جمعہ کی نماز کیوں بلند آواز سے پڑھی جاتی ہے؟

 2- جمعہ کی نماز کے بعد ظہر کے 4 فرض کیوں نہیں ادا کیے جاتے ہیں؟ سنتیں کیوں پڑھی جاتی ہیں؟

جواب

1۔ جمعہ کی نماز میں امام کے لیے جہراً قراءت کرنا واجب ہے ؛ کیوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم جمعہ کی نماز میں ہمیشہ جہراً قراءت کیا کرتے تھے۔نیز جمعہ کی نماز کے وقت لوگوں کے اجتماع کا مقصد لوگوں کو تبلیغ اسلام، تعلیم و تعلم اور وعظ و نصیحت بھی ہے، لہذا اس وقت جہرا قراءت کرنا لوگوں کے جمع ہونے کے مقصد کو مزید مفید بناتا ہے، لوگوں کو قرآن کریم میں تدبر کرنے کا موقع ملتا ہے اور اس میں قرآن کریم کی عظمت بھی ہے۔

2۔ جمعہ کی نمازمستقل ایک نماز ہے جو جمعے کے دن مخصوص شرائط کے ساتھ ظہر کے وقت میں ادا کی جاتی ہے، لہذا جو شخص جمعہ کی نماز پڑھتا ہے تو اس سے ظہر کی نماز ساقط ہوجاتی ہے، جمعہ کی نماز کی رکعات کی اپنی تعداد ہے، اسی وجہ سے جمعہ کی نماز کے بعد سنتیں پڑھی جاتی ہیں، ظہر کے چار فرض نہیں۔ البتہ جس سے جمعے کی نماز رہ جائے اور کہیں جماعت نہ ملے یا جمعہ فرض ہونے کی شرائط نہ پائی جائیں ایسے افراد کے لیے جمعے کے دن ظہر  کی نماز  پڑھنے کا حکم ہے۔

فتح القدير للكمال ابن الهمام (1/ 326)

'' (ويجهر في الجمعة والعيدين)؛ لورود النقل المستفيض بالجهر۔
و في الشرح: (قوله لورود النقل المستفيض) طريق تقريره ما ذكرناه آنفاً''۔

''حجة الله البالغة'' (2/ 46)

''ويجهر فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ، وليكون أمكن لتدبرهم فِي الْقُرْآن وأنوه بِكِتَاب الله''۔

''إعلام الموقعين عن رب العالمين'' (2/ 91)

'' وأما النهار فلما كان بضد ذلك كانت قراءة صلاته سريةً إلا إذا عارض في ذلك معارض أرجح منه، كالمجامع العظام في العيدين والجمعة والاستسقاء والكسوف؛ فإن الجهر حينئذ أحسن وأبلغ في تحصيل المقصود، وأنفع للجمع، وفيه من قراءة كلام الله عليهم وتبليغه في المجامع العظام ما هو من أعظم مقاصد الرسالة، والله أعلم''.

''فتح القدير'' لكمال بن الهمام (3/ 197)

''مناسبته مع ما قبله تنصيف الصلاة لعارض ، إلا أن التنصيف هنا في خاص من الصلاة ، وهو الظهر ، وفيما قبله في كل رباعية ، وتقديم العام هو الوجه ، ولسنا نعني أن الجمعة تنصيف الظهر بعينه بل هي فرض ابتداء نسبته النصف منها''.

''رد المحتار'' (2/ 137)

''وليست بدلاً عنه كما حرره الباقاني معزياً لسري الدين بن الشحنة. وفي البحر: وقد أفتيت مراراً بعدم صلاة الأربع بعدها بنية آخر ظهر خوف اعتقاد عدم فرضية الجمعة، وهو الاحتياط في زماننا، وأما من لا يخاف عليه مفسدة منها، فالأولى أن تكون في بيته خفيةً.

و في الرد: (قوله: وليست بدلاً عنه إلخ) تصريح بمفهوم قوله: وهي فرض مستقل، لكن هذا مخالف لما قدمه المصنف في بحث النية من باب شروط الصلاة. وعبارته مع الشرح: ولو نوى فرض الوقت مع بقائه جاز إلا في الجمعة ؛ لأنها بدل إلا أن يكون عنده في اعتقاده أنها فرض الوقت كما هو رأي البعض فتصح. اهـ. وكتبنا هناك عن شرح المنية أن فرض الوقت عندنا الظهر لا الجمعة ولكن قد أمر بالجمعة لإسقاط الظهر ولذا لو صلى الظهر قبل أن تفوته الجمعة صحت عندنا خلافاً لزفر والثلاثة وإن حرم الاقتصار عليها اهـ.

والحاصل: أن فرض الوقت عندنا الظهر، وعند زفر الجمعة كماصرح به في الفتح وغيره فيما سيأتي حتى الباقاني في شرح الملتقى، وأما ما نقله عنه فلعله ذكره في شرحه عن النقاية وبما ذكرناه ظهر ضعفه، (قوله: وفي البحر إلخ) سيأتي الكلام على ذلك عند قول المصنف وتؤدى في مصر واحد بمواضع كثيرة''۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909200479

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے