بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 26 فروری 2020 ء

دارالافتاء

 

جس پلاٹ کا قبضہ نہ ملا ہو اس کی زکاۃ کا حکم


سوال

میں نے ایک پلاٹ خریدا تھا اور نیت یہ تھی کہ اس کو آگے فروخت  کرنا ہے، پر ابھی قبضہ نہیں ملا تھا کہ زکاۃ کی ادائیگی کی تاریخ آگئی اب اس کی زکاۃ دینا ہوگی یا نہیں؟

جواب

اگر آپ نے یہ پلاٹ آگے فروخت کرنے کی نیت سے خریدا تھا تو اس پر زکاۃ لازم ہو گی، اگرچہ اب تک اس کا قبضہ نہ ملا ہو ؛ کیوں کہ قبضہ کے بغیر بھی محض خریدنے سے ملکیت آ جاتی ہے، البتہ آپ کے اوپر اس پلاٹ کی زکاۃ ادا کرنا اس وقت لازم ہو گا جب اس پلاٹ کا قبضہ آپ کو مل جائے، اس سے پہلے ادائیگی واجب نہیں، اور جتنے سال آپ کی ملکیت میں رہا ان تمام سالوں کی زکاۃ ادا کرنا لازم ہو گی ۔ اور اگر ہر سال کی زکاۃ ساتھ ساتھ ادا کرتے رہیں تو یہ بھی جائز ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143908200396

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے