بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ربیع الثانی 1441ھ- 11 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

جس مکان کو کرائے پر دینا ہو اس کی زکاۃ کا حکم


سوال

ہم ایک مکان میں رہ رہے ہیں اور رمضان سے کچھ پہلے ایک دوسرا مکان خریدا اور اس میں رہنے لگے، پہلے مکان کو کرائے پر دینا ہے، لیکن رمضان تک کرائے پر نہیں گیا، کیا پہلے مکان پر زکاۃ ادا کرنی ہو گی؟

 

جواب

مذکورہ مکان (جو کرایہ پر چڑھانا ہے، اس کی مالیت) پر زکاۃ  کی ادائیگی واجب  نہیں ہے۔  البتہ جب اس کا کرایہ وصول ہو اور نصاب کا سال پورا ہونے پر اس کرایہ میں سے کچھ رقم بنیادی ضرورت سے زائد موجود ہو تو اسے دیگر قابلِ زکات اموال کے ساتھ ملاکر ڈھائی فی صد زکاۃ ادا کرنا ہوگی۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008201191

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے