بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جس مطلقہ کو ایک سال تک حیض نہ آتا ہو اس کی عدت کا حکم

سوال

 جس عورت کو نفاس کے بعد ایک سال تک حیض نہیں آتا اگر اس کو اس عرصے میں طلاق دی جائے تو وہ عدت کس طرح پوری کرے?

جواب

اولاً تو مذکورہ عورت کو  چاہیے کہ اپنا علاج کرائے؛  تاکہ حیض معمول کے مطابق شروع ہوجائے، اگر علاج سے افاقہ ہو اور حیض شروع ہوجائے تو حیض کے حساب سے ہی عدت پوری کرے گی۔  اور اگر ایک سال کے مکمل ہونے تک حیض نہ آئے تو ایک سال مکمل ہونے پر اس کی عدت مکمل ہو جائے گی۔

البحر الرائق شرح كنز الدقائق  (11 / 48):

"ونقل في المجمع: أن مالكاً يقول: إن عدتها تنقضي بمضي حول".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 508):
" لكن قد علمت أن المعتمد عند المالكية تقدير المدة بحول، ونقله أيضاً في البحر عن المجمع معزياً لمالك".
 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012201656
تاریخ08-10-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں