بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 25 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

جس عورت کو سات ماہ بعد حیض آتا ہو اس کی عدت کاحکم


سوال

 مطلقہ عورت جس کو سات ماہ کے بعد حیض آتا ہو اس کی عدت کیسے شمار کی جائے گی؟

جواب

جب تک عورت کے حیض کا سلسلہ بالکلیہ بند نہ ہو اس وقت تک طلاق یا خلع کی صورت میں اس کی  عدت حیض ہی کے اعتبار سے شمار کی جائے گی، اگرچہ دوحیضوں کے درمیان لمبا وقفہ ہی کیوں نہ ہو، لہذا مذکورہ خاتون کو جب سات ماہ بعد حیض آتا ہے تو طلاق یا خلع کی صورت میں ان کی عدت تین ماہواریاں ہی شمار ہوگی ۔

البحر الرائق میں ہے:

"إن لم تحض الشابة الممتد طهرها فلاتعتد بالأشهر، وصورتها إذا رأت ثلاثة أيام وانقطع ومضى سنة أو أكثر ثم طلقت فعدتها بالحيض إلى أن تبلغ إلى حد الإياس وهو خمس وخمسون سنة في المختار، كذا في البزازية". (142/4 ط: دارالمعرفة، بیروت) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144104200247

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے