بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو الحجة 1441ھ- 05 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

جس سے بچہ گر کر مر جائے تو کیا حکم ہے؟


سوال

عورت سے سیڑھی چڑھتے ہوئے بچہ گود سےگر کر مر گیا تو کفارے کا حکم ہے?

جواب

مذکورہ صورت جاری مجری قتلِ خطا کی ہے۔ا یسی صورت میں بچہ مرجائے تو  عاقلہ پر دیت اور قا تل پر   کفارہ لازم ہوگا۔ باری تعاٰلیٰ کا ارشاد ہے:

{وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ أَن يَقْتُلَ مُؤْمِنًا إِلاَّ خَطَئًا وَمَن قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَئًا فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ وَدِيَةٌ مُّسَلَّمَةٌ إِلَى أَهْلِهِ إِلاَّ أَن يَصَّدَّقُواْ فَإِن كَانَ مِن قَوْمٍ عَدُوٍّ لَّكُمْ وَهُوَ مْؤْمِنٌ فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ وَإِن كَانَ مِن قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ مِّيثَاقٌ فَدِيَةٌ مُّسَلَّمَةٌ إِلَى أَهْلِهِ وَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ فَمَن لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ تَوْبَةً مِّنَ اللّٰه وَكَانَ اللّٰه عَلِيمًا حَكِيمًا} [النساء:92]

ترجمہ: "کسی مسلمان کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ کسی دوسرے مسلمان کو قتل کرے ، الاَّیہ کہ غلطی سے ایسا ہو جائے اور جو شخص کسی مسلمان کو غلطی سے قتل کر بیٹھے تو اس پر فرض ہے کہ وہ ایک مسلمان غلام آزاد کر ے اور دیت ( یعنی خوں بہا) مقتول کے ورثاء کو پہنچائے، الَّایہ کہ وہ معاف کر دیں۔ اور اگر مقتول کسی ایسی قوم سے تعلق رکھتا ہو جو تمہاری دشمن ہو، مگر وہ خود مسلمان ہو، تو بس ایک مسلمان غلام کو آزاد کرنا فرض ہے (خون بہا دینا واجب نہیں)۔ اور اگر مقتول ان لوگوں میں سے ہے جو ( مسلمان نہیں، مگر) ان کے اور تمہارے درمیان کوئی معاہدہ ہے تو بھی یہ فرض ہے کہ خون بہا اس کے وارثوں تک پہنچایا جائے اور ایک مسلمان غلام کو آزاد کیا جائے۔ ہاں! اگر کسی کے پاس غلام نہ ہو تو اس پر فرض ہے کہ دو مہینے تک مسلسل روزے رکھے۔ یہ توبہ کا طریقہ ہے، جو اللہ نے مقرر کیا ہے اور اللہ علیم وحکیم ہے"۔

* مقتول کی دیت سو اونٹ یا دس ہزار درہم یا ایک ہزار دینار یا اس کے برابر قیمت ہے، اور دیت کی ادائیگی قاتل کی عاقلہ پر لازم ہوتی ہے، اور  دیت میں حاصل شدہ مال مقتول کے ورثہ میں شرعی اعتبار سے تقسیم ہو گا۔ جو وارث اپنا حصہ معاف کر دے گا اس قدر معاف ہو جائے گا اوراگر سب نے معاف کر دیا تو سب معاف ہو جائے گا ۔

* کفارے میں مسلسل ساٹھ روزے رکھنا قاتل پر لازم ہو گا، کفارہ کے روزے میں اگرمرض کی وجہ سے تسلسل باقی نہ رہے تو از سر نو رکھنے پڑیں گے، ہاں! عورت کے حیض کی وجہ سے تسلسل ختم نہیں ہو گا، یعنی اگر کسی عورت سے قتل ہو گیا  اور وہ 60 روزے کفارہ میں رکھ رہی ہے تو  60 روزے رکھنے کے دوران ماہ واری کے آنے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا وہ ماہ واری سے فراغت کے بعد 60 روزوں کو جاری رکھے گی۔
خلاصہ یہ کہ دیت  تو ورثاء کے معاف کرنے سے معاف ہو جائے گی؛  کیوں کہ دیت اور قصاص میں ورثاء کا حق بھی ہے،  اور اس حق کو قرآنِ مجید میں بھی بیان کیا گیا ہے:

{فمن عفی له من اخیه شي ء فاتباع بالمعروف ... الآية} [البقرة: 178]

ترجمہ: پھر جسے معاف کردیا جائے اس کے بھائی کی طرف سے کچھ، تو پیروی کرنا ہے دستور کے مطابق ۔۔۔ الخ

لہٰذا دیت یا قصاص لازم ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس کے نفاذ کا حکم اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، لیکن ورثہ کے حق کا لحاظ رکھتے ہوئے، اگر وہ بدلہ چاہیں تو کوئی طاقت انہیں اس حق سے محروم نہیں کرسکتی، اور اگر وہ معاف کرنا چاہیں تو مجرم سے دنیا میں بدلہ نہیں لیا جائے گا۔ باقی قتل یا کوئی عضو تلف کرنا اگر ارادے سے ہو تو اس پر جو گناہ لازم ہوگا وہ توبہ کے بغیر معاف نہیں ہوگا۔

جہاں تک کفارے کے روزے رکھنے کا حکم ہے تو وہ بہرحال لازم ہوں گے؛ کیوں کہ کفارہ ورثہ کے حق کے طور پر لازم نہیں ہوتا کہ ان کے معاف کرنے سے معاف ہو۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (7 / 271):
"والاحتراز عن سقوط المحمول ممكن أيضاً".

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (7 / 271):
"(أما) وجوب الدية فلوجود معنى الخطأ، وهو عدم القصد (وأما) وجوب الكفارة وحرمان الميراث والوصية فلوجود القتل مباشرة".
 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144106200595

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں