بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 شوال 1441ھ- 04 جون 2020 ء

دارالافتاء

 

جانور کے خون سے علاج کرنا


سوال

جس جانور کا گوشت حلال ہے اس جانور کا خون کسی بیماری کی وجہ سے جسم پر لگانا جائز ہے؟  جیسے اوںٹ کے خون کے بارے میں مشہور ہے کہ جسم پر لگانے سے بیماریاں دور ہوتی ہیں۔

جواب

ناپاک اشیاء پر مشتمل دوا کا جیسے داخلی استعمال جائز نہیں ہے، اسی طرح خارجی استعمال (جسم پر لگانا) بھی جائز نہیں ہے، البتہ اگر کوئی ایسی لاعلاج بیماری ہو جس کا علاج کسی پاک حلال دوا میں نہ ہو، اور دین دار ماہر طبیب یقین سے کہے کہ اس ناپاک چیز میں شفا ہے تو استعمال کی گنجائش ہوتی ہے؛ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر ایسی بیماری ہو جس کے بارے میں دین دار ماہر طبیب / ڈاکٹر یہ کہے کہ اونٹ کا خون لگانا ہی اس کا علاج ہے تو اس صورت میں اجازت ہوگی۔ 

ویسے ہی عام وگوں کے کہنے پر  یا لوگوں میں مشہور ہونے کی وجہ سے  کسی بیماری میں حرام چیز کا استعمال کرنا شرعاً جائز نہیں۔  اسی طرح اگر فی الوقت کوئی بیماری نہیں ہے، اور قبل از وقت بیماری سے بچاؤ کے لیے یا بیماری ہے لیکن اس کا علاج  پاک اشیاء میں موجود ہے، ان تمام صورتوں میں اس کا استعمال جائز نہیں ہوگا۔

  • اختلف فی التداوی بالمحرم  وظاہر المذہب المنع ... وقیل: یرخص اذا علم فیہ الشفاء ولم یعلم دواء اخر، کما رخص الخمر للعطشان، وعلیہ الفتوی". (شامی، ج  : ۱، ص: ۲۱۰)
  • بدائع الصنائع (ج: ۵، ص: ۳۶، ط:دار الکتب العلمیہ)
  • الفقہ الاسلامی وادلتہ، ج: ۴ص: ۳۲۵، ط: دارالفکر دمشق فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004201274

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں