بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

22 جمادى الاخرى 1441ھ- 17 فروری 2020 ء

دارالافتاء

 

جانوروں کے چارے کا خودرو درخت (بیرہ) میں عشر واجب ہے یا نہیں؟


سوال

 ہمارے علاقےمیں درخت(بیرہ) ہوتا ہے جو ہم جانوروں کے کھانے کے لیے کاٹتے ہیں یہ درخت (بیرہ) قدرتی طور پر پیدا ہوتے ہیں جو ہر کسی کی زمین میں ہوتا ہے وہ اس کی ہوتی ہے سوال یہ ہے کہ اس میں زکاۃ  ہوتی ہیں یا نہیں؟

جواب

زمین کی اس پیداوار میں عشر  واجب ہوتا ہے جس سے آمدنی حاصل کرنا   یا  پیداوار سے فائدہ اٹھانا مقصود ہے، اور اسی نیت سے اس کو لگایا جائے، اور جو اشیاء خود ہی بغیر قصد کے تبعاً حاصل ہوجائے تو اس میں عشر لازم نہیں ہوتا۔

لہذا مذکورہ درخت اگر بغیر کاشت اور بغیر قصد کے خود  اگتے ہوں  اور اسے جانور چارہ کے طور پر استعمال کرتے ہوں  تو ان میں عشر واجب نہیں ہوگا، لیکن اگر مذکورہ  درختوں کو جانوروں کے چارہ وغیرہ کے  مقصد سے باقاعدہ  کاشت کیا جائے  کہ اس سے فائدہ اٹھایا جائے گا تو اس صورت میں اس میں عشر لازم ہوگا۔

''بدائع الصنائع ''  میں ہے:

"ومنها: أن يكون الخارج من الأرض مما يقصد بزراعته نماء الأرض وتستغل الأرض به عادةً، فلا عشر في الحطب والحشيش والقصب الفارسي؛ لأن هذه الأشياء لاتستنمى بها الأرض ولاتستغل بها عادة؛ لأن الأرض لاتنمو بها، بل تفسد، فلم تكن نماء الأرض، حتى قالوا في الأرض: إذا اتخذها مقصبةً وفي شجره الخلاف، التي تقطع في كل ثلاث سنين، أو أربع سنين أنه يجب فيها العشر؛ لأن ذلك غلة وافرة".  (2 / 58، فصل الشرائط المحلیۃ، ط: سعید)

''فتاویٰ عالمگیری'' میں ہے:

"فلا عشر في الحطب والحشيش والقصب والطرفاء والسعف؛ لأن الأراضي لاتستنمي بهذه الأشياء، بل تفسدها، حتى لو استنمت بقوائم الخلاف والحشيش والقصب وغصون النخل أو فيها دلب أو صنوبر ونحوها، وكان يقطعه ويبيعه يجب فيه العشر، كذا في محيط السرخسي".(1 / 186،  الباب السادس فی زکاۃ الزرع والثمار، ط: رشیدیہ)

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 327):
" (إلا في ما) لا يقصد به استغلال الأرض (نحو حطب وقصب) فارسي (وحشيش) وتبن وسعف وصمغ وقطران وخطمي وأشنان وشجر قطن وباذنجان وبزر بطيخ وقثاء وأدوية كحلبة وشونيز حتى لو أشغل أرضه بها يجب العشر. 

(قوله: حتى لو أشغل أرضه بها يجب العشر) فلو استنما أرضه بقوائم الخلاف وما أشبهه أو بالقصب أو الحشيش وكان يقطع ذلك ويبيعه كان فيه العشر غاية البيان ومثله في البدائع وغيرها قال في الشرنبلالية وبيع ما يقطعه ليس بقيد ولذا أطلقه قاضي خان اهـ قال الشيخ إسماعيل ومثل الخلاف الحور بالمهملتين والصفصاف في بلادنا".فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144010200767

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے